BR100 Increased By (0.64%)
BR30 Increased By (0.68%)
KSE100 Increased By (0.54%)
KSE30 Increased By (0.62%)
BAFL 58.60 Decreased By ▼ -0.16 (-0.27%)
BIPL 28.20 Increased By ▲ 0.19 (0.68%)
BOP 36.17 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
CNERGY 9.70 Increased By ▲ 0.30 (3.19%)
DFML 19.80 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 224.01 Increased By ▲ 0.71 (0.32%)
FABL 101.90 Increased By ▲ 0.58 (0.57%)
FCCL 56.05 Increased By ▲ 0.58 (1.05%)
FFL 17.60 Increased By ▲ 0.12 (0.69%)
GGL 25.00 Increased By ▲ 0.19 (0.77%)
HBL 314.50 Increased By ▲ 5.61 (1.82%)
HUBC 226.99 Increased By ▲ 0.06 (0.03%)
HUMNL 11.11 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 8.10 Increased By ▲ 0.16 (2.02%)
LOTCHEM 31.59 Increased By ▲ 1.16 (3.81%)
MLCF 104.50 Increased By ▲ 1.73 (1.68%)
OGDC 334.00 Increased By ▲ 0.45 (0.13%)
PAEL 45.00 Decreased By ▼ -0.07 (-0.16%)
PIBTL 17.98 Decreased By ▼ -0.04 (-0.22%)
PIOC 271.97 Increased By ▲ 0.13 (0.05%)
PPL 237.01 Increased By ▲ 1.39 (0.59%)
PRL 42.10 Increased By ▲ 0.25 (0.6%)
SNGP 112.34 Decreased By ▼ -1.89 (-1.65%)
SSGC 30.89 Decreased By ▼ -0.18 (-0.58%)
TELE 9.19 Increased By ▲ 0.19 (2.11%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.06 (-0.47%)
TRG 65.60 Increased By ▲ 0.43 (0.66%)
UNITY 10.31 Increased By ▲ 0.11 (1.08%)
WTL 1.33 Increased By ▲ 0.01 (0.76%)
دنیا

انفرااسٹرکچر پر حملہ ہوا تو اسرائیل کو بھرپور جواب دیں گے، ایرانی سیکیورٹی عہدیدار

  • ذوالقدر نے کہا، "انفرااسٹرکچر پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور ان مظالم کی ذمہ دار مجرم صہیونی حکومت ہمارے جنگجوؤں کی جوابی کارروائی سے محفوظ نہیں رہے گی۔"
شائع اپ ڈیٹ

ایران کی اعلیٰ سیکیورٹی کونسل کے سربراہ محمد باقر ذوالقدر نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ اگر ملک کے بنیادی ڈھانچے پر کسی بھی قسم کا حملہ کیا گیا، بشمول اسرائیل کی جانب سے، تو ایران اس کا بھرپور جواب دے گا۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان اس ہفتے دوبارہ جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق ذوالقدر نے اپنے بیان میں کہا، ”انفرااسٹرکچر پر کسی بھی حملے کا بھرپور جواب دیا جائے گا، اور ان مظالم کی ذمہ دار مجرم صہیونی حکومت ہمارے جنگجوؤں کی جوابی کارروائی سے محفوظ نہیں رہے گی۔“

امریکا اور ایران کے درمیان اس ہفتے دوبارہ لڑائی شدت اختیار کر گئی، جو 17 جون کو طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا تصادم ہے۔ اس یادداشت کا مقصد اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کو باضابطہ شکل دینا اور جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا تھا۔

امریکی فوج نے بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب شدید حملے کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس نے 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔

تاہم ایران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا کہ اس نے مرحوم سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات سے توجہ ہٹانے کے لیے شہری انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا۔

ایرانی حکام کے مطابق دارالحکومت تہران اور خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد کے درمیان پلوں اور ریلوے رابطوں پر حملے کیے گئے۔ خامنہ ای کو جمعرات کو مشہد میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں اب تک 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے بتایا کہ انہوں نے جمعرات کو امریکی صدر سے ٹیلی فون پر گفتگو کی، جس میں امریکی صدر نے انہیں خلیج میں تازہ امریکی اقدامات سے آگاہ کیا۔

بعد ازاں جمعرات کی شام ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا کہ امریکا اور اسرائیل نے بوشہر کے قریب ایک فوجی ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا، جہاں ایران کا واحد سویلین جوہری بجلی گھر واقع ہے۔

ادھر اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو اسرائیل ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائی دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس بار ”مزید زیادہ طاقت“ استعمال کی جائے گی۔

Comments

200 حروف