BR100 Decreased By (-0.85%)
BR30 Decreased By (-3.01%)
KSE100 Decreased By (-2.48%)
KSE30 Decreased By (-2.5%)
BAFL 59.26 Decreased By ▼ -2.47 (-4%)
BIPL 28.16 Decreased By ▼ -1.06 (-3.63%)
BOP 35.93 Decreased By ▼ -1.44 (-3.85%)
CNERGY 8.72 Increased By ▲ 0.23 (2.71%)
DFML 19.51 Decreased By ▼ -0.59 (-2.94%)
DGKC 224.29 Decreased By ▼ -8.97 (-3.85%)
FABL 101.05 Decreased By ▼ -2.80 (-2.7%)
FCCL 56.18 Decreased By ▼ -1.57 (-2.72%)
FFL 17.53 Decreased By ▼ -0.36 (-2.01%)
GGL 24.55 Decreased By ▼ -1.67 (-6.37%)
HBL 309.21 Decreased By ▼ -9.38 (-2.94%)
HUBC 227.41 Decreased By ▼ -6.03 (-2.58%)
HUMNL 11.02 Decreased By ▼ -0.18 (-1.61%)
KEL 7.86 Decreased By ▼ -0.25 (-3.08%)
LOTCHEM 29.52 Decreased By ▼ -1.02 (-3.34%)
MLCF 102.17 Decreased By ▼ -4.89 (-4.57%)
OGDC 335.45 Decreased By ▼ -7.87 (-2.29%)
PAEL 44.65 Decreased By ▼ -2.37 (-5.04%)
PIBTL 17.83 Decreased By ▼ -0.79 (-4.24%)
PIOC 272.69 Decreased By ▼ -7.86 (-2.8%)
PPL 238.78 Decreased By ▼ -8.04 (-3.26%)
PRL 38.43 Increased By ▲ 1.18 (3.17%)
SNGP 113.86 Decreased By ▼ -4.48 (-3.79%)
SSGC 30.30 Decreased By ▼ -1.64 (-5.13%)
TELE 9.00 Decreased By ▼ -0.18 (-1.96%)
TPLP 12.65 Decreased By ▼ -0.67 (-5.03%)
TRG 64.50 Decreased By ▼ -3.00 (-4.44%)
UNITY 10.35 Decreased By ▼ -0.26 (-2.45%)
WTL 1.33 Increased By ▲ 0.06 (4.72%)
کاروبار اور معیشت

گورنر ایس بی پی نے مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہنے کی پیش گوئی کر دی

  • موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر ملک کی درآمدات کے لیے تقریباً تین ماہ کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، جو بین الاقوامی معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ فروری 2023 میں ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی رہ گئے تھے، جمیل احمد
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے بدھ کو توقع ظاہر کی ہے کہ 30 جون 2026 کو ختم ہونے والے مالی سال (مالی سال 26) میں پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ مسلسل دوسرے سال بھی متوازن یا سرپلس رہے گا، جس سے رواں مالی سال 2026-27 (مالی سال 27) میں معاشی سرگرمیوں اور اقتصادی نمو کو مزید تقویت ملے گی۔

جون 2026 اور پورے مالی سال 2025-26 (مالی سال 26) کے کرنٹ اکاؤنٹ کے اعداد و شمار ابھی تک مرکزی بینک نے جاری نہیں کیے۔

پاکستان بینکنگ سمٹ 2026 کے دو روزہ اجلاس کی اختتامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے جمیل احمد نے کہا، ”مجھے پورا یقین ہے کہ جون کے اعداد و شمار بھی حوصلہ افزا ہوں گے، لہٰذا مجموعی طور پر ہمیں توقع ہے کہ مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ یا تو متوازن رہے گا یا معمولی سرپلس میں ہوگا۔“

انہوں نے بتایا کہ مالی سال 26 کے پہلے گیارہ ماہ (جولائی تا مئی) کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 25 کروڑ 50 لاکھ ڈالر سرپلس رہا، جبکہ گزشتہ مالی سال (مالی سال 25) میں بھی کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس تھا، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً 0.5 فیصد کے برابر تھا۔

گزشتہ ہفتے مرکزی بینک نے اندازہ ظاہر کیا تھا کہ مالی سال 26 میں کرنٹ اکاؤنٹ معمولی خسارے یا معمولی سرپلس میں رہ سکتا ہے، جبکہ سال کے آغاز میں جاری کی گئی پیش گوئی میں اسے صفر سے ایک فیصد سرپلس کے درمیان رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔

گورنر ایس بی پی نے کہا کہ مالی سال 26 میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 4 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو پاکستان بیورو آف شماریات (پی بی ایس) کی عارضی طور پر جاری کردہ 3.7 فیصد شرح سے زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا، ”ہمیں توقع ہے کہ مالی سال 27 میں معاشی نمو کی رفتار مزید تیز ہوگی۔ اگر فروری 2026 کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی سیاسی بحران پیدا نہ ہوتا تو جی ڈی پی کی شرح نمو 4 فیصد سے بھی زیادہ ہوتی۔“

جمیل احمد نے کہا کہ اگر گزشتہ تین برسوں میں اسٹیٹ بینک نے تقریباً 4.8 ارب ڈالر کی فارورڈ واجبات ادا نہ کی ہوتیں تو مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر 23 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہوتے۔

انہوں نے کہا، ”گزشتہ روز (منگل، 7 جولائی) تک فارورڈ واجبات کم ہو کر 90 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہ گئی ہیں، جو تین سال قبل 5.8 ارب ڈالر تھیں۔ ان واجبات کی ادائیگی مالی سال 26 میں بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کے علاوہ کی گئی۔“

گورنر ایس بی پی نے کہا کہ دسمبر 2026 کے اختتام تک مرکزی بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 20.2 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ فروری 2023 میں 3 ارب ڈالر سے بھی کم رہ جانے والے ذخائر مالی سال 26 کے اختتام تک بڑھ کر 18.4 ارب ڈالر ہو گئے، یعنی ان میں تقریباً چھ گنا اضافہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر ملک کی درآمدات کے لیے تقریباً تین ماہ کا تحفظ فراہم کرتے ہیں، جو بین الاقوامی معیار سمجھا جاتا ہے، جبکہ فروری 2023 میں ذخائر صرف دو ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی رہ گئے تھے۔

جمیل احمد نے کہا کہ معاشی اشاریوں میں بہتری سے کاروباری سرگرمیوں کے فروغ اور نجی شعبے کو بینکوں کی جانب سے زیادہ قرضوں کی فراہمی کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے بینکوں کو ہدایت کی کہ وہ زراعت، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) اور دیگر ترجیحی شعبوں کو مطلوبہ مالی سہولتیں فراہم کریں۔

انہوں نے بتایا کہ مرکزی بینک نے ایس ایم ایز کے لیے مالی سہولتوں کا حجم بڑھا کر 1.5 کھرب روپے تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

Comments

200 حروف