پاکستان، ترکیہ کا دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے عزم کا اعادہ
- وزیراعظم شہباز شریف کی استنبول میں صدر اردوان سے ملاقات
پاکستان اور ترکیہ نے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کی بھرپور صلاحیت سے فائدہ اٹھا کر دوطرفہ تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچایا جائے، جبکہ دونوں برادر ممالک کے درمیان دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم کیا جائے۔
یہ پیش رفت ہفتے کے روز استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا، ”ہماری بات چیت میں پاکستان۔ترکیہ اسٹریٹجک شراکت داری کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا، جس میں بالخصوص تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون، توانائی، رابطہ سازی، ٹیکنالوجی، علاقائی امن اور عوامی روابط پر توجہ مرکوز رہی۔“
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا، ”ہم نے اس مشترکہ یقین کا اعادہ کیا کہ تنازعات کے حل اور عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی احترام ہی واحد پائیدار راستہ ہیں۔ میں نے صدر اردوان کی پرتپاک میزبانی پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔“
انہوں نے کہا، ”ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اپنی شراکت داری کی بے پناہ صلاحیت سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے باہمی تجارت کا حجم 5 ارب ڈالر تک پہنچانے کے متفقہ ہدف کو حاصل کیا جائے اور پاکستان و ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط اور بلند سطح تک لے جایا جائے۔“
وزیراعظم نے مزید کہا، ”آج اس سے قبل میں نے پاکستان۔ترکیہ بزنس کانفرنس میں شرکت کی، جہاں ترکیہ کی متحرک کاروباری برادری کے ممتاز نمائندوں سے ملاقات ہوئی۔ ان کی مثبت سوچ، جدت پسندی اور کاروباری جذبے نے میرے اس یقین کو مزید مضبوط کیا کہ صدر اردوان کی دور اندیش قیادت میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اقتصادی شراکت داری ایک نئے اور امید افزا دور میں داخل ہو رہی ہے۔“

























Comments