BR100 Increased By (0.99%)
BR30 Increased By (0.38%)
KSE100 Increased By (1.06%)
KSE30 Increased By (1.14%)
BAFL 56.67 Decreased By ▼ -0.23 (-0.4%)
BIPL 27.01 Increased By ▲ 0.19 (0.71%)
BOP 35.09 Increased By ▲ 0.05 (0.14%)
CNERGY 8.17 Increased By ▲ 0.08 (0.99%)
DFML 19.67 Increased By ▲ 0.25 (1.29%)
DGKC 223.27 Increased By ▲ 3.21 (1.46%)
FABL 99.24 Increased By ▲ 1.27 (1.3%)
FCCL 57.55 Increased By ▲ 1.36 (2.42%)
FFL 17.88 Increased By ▲ 0.20 (1.13%)
GGL 23.37 Decreased By ▼ -0.23 (-0.97%)
HBL 292.21 Increased By ▲ 2.02 (0.7%)
HUBC 233.45 Increased By ▲ 6.00 (2.64%)
HUMNL 11.17 Increased By ▲ 0.24 (2.2%)
KEL 8.54 Decreased By ▼ -0.03 (-0.35%)
LOTCHEM 28.07 Increased By ▲ 0.53 (1.92%)
MLCF 106.91 Increased By ▲ 0.40 (0.38%)
OGDC 334.87 Decreased By ▼ -0.33 (-0.1%)
PAEL 45.45 Increased By ▲ 0.45 (1%)
PIBTL 19.08 Increased By ▲ 0.81 (4.43%)
PIOC 283.37 Increased By ▲ 13.33 (4.94%)
PPL 242.62 Decreased By ▼ -1.87 (-0.76%)
PRL 35.67 Increased By ▲ 0.73 (2.09%)
SNGP 120.93 Increased By ▲ 2.33 (1.96%)
SSGC 32.08 Increased By ▲ 1.25 (4.05%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.17 (1.95%)
TPLP 10.73 Increased By ▲ 0.47 (4.58%)
TRG 63.67 Increased By ▲ 0.31 (0.49%)
UNITY 10.82 Increased By ▲ 0.16 (1.5%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
مارکٹس

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا مالی سال 26-2025 شاندار اختتام، کے ایس ای-100 انڈیکس میں 44 فیصد اضافہ

  • کے ایس ای 100 انڈیکس نے تین مالی سالوں (24-2023، 25-2024 اور 26-2025) میں مجموعی طور پر 335 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا
شائع July 1, 2026 اپ ڈیٹ July 1, 2026 12:57am

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کے بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں مالی سال 26-2025 کے دوران 44 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ آئی ایم ایف کے تعاون سے جاری معاشی پروگرام کے تحت معاشی استحکام میں بہتری، سرمایہ کاروں کے بڑھتے اعتماد اور اسٹاک مارکیٹ میں مسلسل تیزی کے باعث مالی سال کا اختتام انتہائی مضبوط انداز میں ہوا۔

مالی سال کے آخری کاروباری روز کے ایس ای-100 انڈیکس 180,301 پوائنٹس پر بند ہوا، جو مالی سال 25-2024 کے اختتام پر 125,627 پوائنٹس کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔

گزشتہ تین مالی سالوں (24-2023، 25-2024 اور 26-2025) کے دوران کے ایس ای-100 انڈیکس نے پاکستانی روپے کے حساب سے مجموعی طور پر 335 فیصد جبکہ امریکی ڈالر کے لحاظ سے 347 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔

رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے باوجود مالی سال 26-2025 میں انڈیکس نے نمایاں اضافہ کیا، جس کی بنیادی وجہ ملکی معاشی استحکام میں بہتری رہی۔

مالی سال 26-2025 کے دوران اسٹاک مارکیٹ کی کارکردگی کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلی ششماہی میں مارکیٹ نے 39 فیصد منافع دیا، جبکہ دوسری ششماہی میں یہ شرح 4 فیصد رہی۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز نے اپنی رپورٹ میں کہا، ”مالی سال کی پہلی ششماہی میں جولائی اور اگست 2025 کے سیلاب کے باوجود معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث مارکیٹ نے شاندار کارکردگی دکھائی۔ دوسری ششماہی غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہی، جس دوران 9 مارچ 2026 کو انڈیکس 146,480 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک آیا، جبکہ 23 جنوری 2026 کو 189,167 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچا۔ اس طرح دونوں سطحوں کے درمیان 29 فیصد کا فرق ریکارڈ کیا گیا۔“

رپورٹ کے مطابق ”دوسری ششماہی میں شدید اتار چڑھاؤ کی بڑی وجہ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جنگ تھی، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ چونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا 80 فیصد سے زیادہ حصہ درآمد کرتا ہے، اس لیے بیرونی کھاتوں پر دباؤ بڑھنے کے خدشات بھی شدت اختیار کر گئے۔“

رپورٹ میں مزید کہا گیا، ”یہ خدشات اس وقت مزید بڑھ گئے جب پاکستان نے اپریل 2026 میں متحدہ عرب امارات کے 3.5 ارب ڈالر کے جمع شدہ فنڈز واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ تاہم بعد ازاں حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کو مؤثر انداز میں منظم کرنے کے لیے پیشگی اقدامات کیے اور سعودی عرب سے اضافی مالی معاونت حاصل کر کے نہ صرف تیل کی بلند قیمتوں کے خطرات بلکہ قرض کی واپسی کے دباؤ پر بھی قابو پا لیا۔“

رپورٹ کے مطابق پاکستان نے اپریل 2026 میں 75 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈ جبکہ مئی 2026 میں 25 کروڑ ڈالر کے پانڈا بانڈ بھی کامیابی سے جاری کیے۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز نے کہا، ”ان اقدامات کے نتیجے میں مارکیٹ جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آگئی اور اپریل 2026 کے وسط تک کے ایس ای-100 انڈیکس دوبارہ ایک لاکھ 68 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کر گیا۔ اس کے بعد ایران اور امریکا کے تنازع پر مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط اور مئی 2026 میں ترسیلاتِ زر کی ریکارڈ 4.3 ارب ڈالر ماہانہ آمد کے باعث انڈیکس ایک لاکھ 80 ہزار پوائنٹس کی سطح بھی عبور کر گیا۔“

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں چینی، جوٹ اور ٹرانسپورٹ کے شعبوں نے مجموعی مارکیٹ سے بہتر کارکردگی دکھائی، جبکہ وناسپتی گھی، مصنوعی ریشم (سنتھیٹک ریون) اور اونی مصنوعات کے شعبے نسبتاً پیچھے رہے۔

ٹاپ لائن سکیورٹیز کی رپورٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس میں شامل کمپنیوں میں بی او پی، پی ٹی سی اور اے ایل بی ایل سال بھر بہترین کارکردگی دکھانے والے نمایاں حصص رہے، جبکہ ایس ایس او ایم، ٹی پی ایل آر ایف ون اور آئی بی ایف ایل نسبتاً کمزور کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے حصص میں شامل تھے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 کے دوران غیر ملکی کارپوریٹ سرمایہ کار مارکیٹ میں مجموعی طور پر 89 کروڑ 50 لاکھ ڈالر مالیت کے خالص فروخت کنندہ رہے۔ تاہم پی آئی او سی اور آر ایم پی ایل میں حصص کی فروخت (ڈیویسٹمنٹ) کو نکال دیا جائے تو غیر ملکی کارپوریٹس کی خالص فروخت 54 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہی۔

مقامی سرمایہ کاروں میں میوچل فنڈز اور کمپنیوں نے سب سے زیادہ خریداری کی، جبکہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور بروکریج ہاؤسز نمایاں فروخت کنندگان رہے۔

مالی سال 26-2025 میں آئی پی اوز

عارف حبیب لمیٹڈ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں ابتدائی عوامی پیشکشوں (آئی پی اوز) کی سرگرمی میں مزید تیزی آئی۔ اس عرصے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے مجموعی طور پر 13 آئی پی اوز کی منظوری دی، جن میں سے 11 اسٹاک ایکسچینج میں لسٹ ہو چکے ہیں، جبکہ 2 کی فہرست سازی ابھی باقی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک لسٹ ہونے والے 11 آئی پی اوز کے ذریعے مجموعی طور پر 18.4 ارب روپے جمع کیے گئے۔

فہرست ہونے والے آئی پی اوز میں مختلف شعبوں کی کمپنیوں نے سرمایہ کاروں کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ ان میں آٹو پارٹس اور لوازمات کے شعبے کی ایس ایل ایم ٹائرز لمیٹڈ نے 7.77 ارب روپے جمع کیے، جو پاکستان کی تاریخ میں نجی شعبے کا سب سے بڑا آئی پی او ہے۔ اسی طرح خوراک اور ذاتی نگہداشت کی مصنوعات کے شعبے کی غنی ڈیریز لمیٹڈ نے 3.43 ارب روپے جبکہ تیل و گیس کی مارکیٹنگ کے شعبے کی ستارہ پیٹرولیم سروسز لمیٹڈ نے 3.02 ارب روپے اکٹھے کیے۔

رپورٹ کے مطابق ”یہ پیش رفت اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان کی سرمایہ مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شرکت میں اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) کی بہتر ضابطہ سازی نے مختلف شعبوں کی کمپنیوں کے لیے ایکویٹی سرمایہ حاصل کرنا آسان بنا دیا ہے۔“

مالی سال 26-2025 میں پاکستانی معیشت کی اہم پیش رفت

رپورٹ کے مطابق مالی سال 26-2025 میں آئی ایم ایف پروگرام کے تحت محتاط مالیاتی اور زری پالیسیوں کی بدولت پاکستان کی معیشت میں مجموعی استحکام برقرار رہا۔ افراطِ زر قابو میں رہی، جاری کھاتہ مجموعی طور پر متوازن رہا، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا اور مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاسی کشیدگی سمیت بیرونی چیلنجز کے باوجود پاکستانی روپیہ نسبتاً مستحکم رہا۔

اس بہتر معاشی ماحول نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو تقویت دی، جس کے نتیجے میں معاشی سرگرمیوں اور مالیاتی منڈیوں میں وسیع پیمانے پر بحالی دیکھنے میں آئی۔

مارچ 2026 میں پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی (ای ایف ایف) کے تحت تیسرے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی (آر ایس ایف) کے تحت دوسرے جائزے پر اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا، جس کے بعد 1.21 ارب ڈالر کی قسط جاری ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔

سال بھر افراطِ زر مجموعی طور پر قابو میں رہی، جبکہ مئی 2026 میں اس کی شرح 11.7 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ مالی سال کے پہلے گیارہ ماہ میں اوسط افراطِ زر 6.69 فیصد رہی، جبکہ گزشتہ سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.61 فیصد تھی۔

حکومت نے مالی سال 27-2026 میں اوسط افراطِ زر 8.2 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی ہے۔

مئی 2026 میں بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر 4.251 ارب ڈالر رہیں، جو ماہانہ بنیاد پر 20.2 فیصد اور سالانہ بنیاد پر 15.4 فیصد زیادہ ہیں۔

مجموعی طور پر جولائی تا مئی مالی سال 26-2025 کے دوران ترسیلاتِ زر 9.2 فیصد اضافے کے ساتھ 38.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ حجم 34.9 ارب ڈالر تھا۔

19 جون کو ختم ہونے والے ہفتے تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 15.916 ارب ڈالر تھے۔ مرکزی بینک کے مطابق، کثیرالجہتی مالیاتی اداروں سے 70 کروڑ ڈالر اور حکومت کے تجارتی قرضے کی 1.7 ارب ڈالر مالیت کی ری فنانسنگ کے بعد یہ ذخائر مزید بڑھنے کی توقع ہے۔

اسٹیٹ بینک نے اندازہ ظاہر کیا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے اختتام تک زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 18 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے۔

مالی سال کے دوران پاکستانی روپیہ بھی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 2 فیصد مضبوط ہوا۔ اسی دوران حقیقی مؤثر شرحِ مبادلہ (ریئل ایفیکٹو ایکسچینج ریٹ - ریئر)، جو تجارتی شراکت دار ممالک کی کرنسیوں کے مقابلے میں روپے کی قدر کو ظاہر کرتی ہے، مئی 2026 میں بڑھ کر 106.15 پوائنٹس تک پہنچ گئی، جو ساڑھے سات برس سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مالی سال کی پہلی ششماہی کے بیشتر حصے میں پالیسی ریٹ 11 فیصد پر برقرار رکھا، تاہم دسمبر 2025 میں افراطِ زر میں کمی اور معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث اسے 50 بیسس پوائنٹس کم کیا۔ بعد ازاں تیل کی بلند عالمی قیمتوں سے افراطِ زر کے دباؤ میں دوبارہ اضافے پر اپریل 2026 میں شرح سود 100 بیسس پوائنٹس بڑھا دی گئی، جبکہ جون 2026 میں اسے برقرار رکھا گیا، یوں مالی سال کا اختتام 11.5 فیصد پالیسی ریٹ پر ہوا۔

مالی سال 27-2026: آگے کا منظرنامہ

ٹاپ لائن سکیورٹیز کے مطابق مالی سال 27-2026 میں پاکستان کی معاشی سمت کا انحصار بڑی حد تک داخلی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد اور بیرونی حالات پر ہوگا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاروں اور پالیسی سازوں کو چند اہم اشاریوں پر گہری نظر رکھنی ہوگی، کیونکہ یہی عوامل آئندہ سال ملکی معیشت کی سمت کا تعین کریں گے۔

ان میں خطے کی جغرافیائی سیاسی صورتحال اور عالمی منڈی میں اجناس، خصوصاً خام تیل کی قیمتیں، سب سے اہم ہیں، کیونکہ ان کا براہِ راست اثر افراطِ زر، درآمدی بل اور بیرونی کھاتوں پر پڑتا ہے۔

اسی طرح زرمبادلہ کے ذخائر کی سطح بھی نہایت اہم رہے گی، کیونکہ یہی پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات پوری کرنے اور شرحِ مبادلہ کو مستحکم رکھنے کی صلاحیت کا تعین کرے گی۔

رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کا تسلسل بھی معاشی استحکام کا ایک بنیادی ستون ہوگا، کیونکہ اس سے بیرونی مالی وسائل کی فراہمی میں مدد ملے گی اور سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں کسی بھی بہتری یا تنزلی پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اس سے بیرونی قرض لینے کی لاگت، بین الاقوامی سرمایہ منڈیوں تک رسائی اور مجموعی سرمایہ کاری کے رجحان پر براہِ راست اثر پڑ سکتا ہے۔

Comments

200 حروف