امریکی مندوبین اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کی دوحہ میں ثالثوں سے ملاقات
- دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات یا براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ذرائع
قطر کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ امریکی مندوبین قطری ثالثوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں، یہ پیش رفت واشنگٹن کی جانب سے ایک مذاکراتی ٹیم بھیجنے کے اعلان کے بعد سامنے آئی ہے۔
وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے کہا کہ امریکا کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اورسابق سینئر مشیر جیرڈ کشنریہاں دوحہ میں ثالثوں اور قطری حکام سے ملاقات کے لیے موجود ہیں اور ان مذاکرات میں تمام علاقائی معاملات پر گفتگو ہوگی۔
ترجمان کے مطابق مندوبین کے ساتھ ہونے والی بات چیت میں ایران کے ساتھ ساتھ دیگر موضوعات بشمول لبنان بھی شامل ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ یہاں ایرانیوں کے ساتھ (براہِ راست) مذاکرات کے لیے نہیں آئے ہیں۔
امریکہ اور ایران دونوں نے پہلے کہا تھا کہ وہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) پر تبادلہ خیال کے لیے قطر میں اپنے عہدیدار بھیجیں گے۔ واضح رہے کہ یہ جنگ رواں سال 28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں کے بعد شروع ہوئی تھی۔
تاہم ماجد انصاری نے وضاحت کی کہ دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان کسی اعلیٰ سطح کی ملاقات یا براہِ راست مذاکرات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان کوئی براہِ راست ملاقاتیں شیڈول نہیں ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایران کا ایک تکنیکی وفد مذاکرات میں پیش رفت کی بنیاد پر دوحہ کا سفر کرتا رہتا ہے اور اس وقت وہاں کوئی اعلیٰ سطح کا وفد موجود نہیں ہے۔ ترجمان کے مطابق ان نام نہاد تکنیکی مذاکرات میں، جو کہ باریکیوں پر نچلے درجے کے حکام کے درمیان ہوتے ہیں، جوہری امور، اقتصادی و ریاستی کارکردگی کے مسائل اور سلامتی کے ٹریکس شامل ہیں۔
قطر نے اس سے قبل ایرانی حملوں کے سائے میں ثالثی کرنے سے انکار کر دیا تھا، جب تہران نے امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر غیر معمولی فضائی بمباری کی تھی۔ تاہم اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں ہونے والی ابتدائی جنگ بندی کے بعد اس خلیجی ملک نے حالیہ ہفتوں میں مذاکرات میں دوبارہ ایک فعال کردار ادا کرنا شروع کیا ہے۔























Comments