دوحہ میں ایران امریکہ مذاکرات کا امکان، خام تیل سستا ہوگیا
- برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے
عالمی منڈی میں منگل کو خام تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار امریکہ اور ایران کے درمیان دوحہ میں ممکنہ مذاکرات کے نتائج پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہفتے کے اختتام پر دونوں ممالک کے درمیان میزائل حملوں نے چار ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی عبوری جنگ بندی کی پائیداری پر سوالات کھڑے کر دیے۔
برینٹ خام تیل کے اگست کے سودے 75 سینٹ یا 1.03 فیصد کمی کے بعد 72.40 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ زیادہ سرگرمی سے ٹریڈ ہونے والا ستمبر کا برینٹ کنٹریکٹ 40 سینٹ کمی کے ساتھ 73.51 ڈالر فی بیرل رہا۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل بھی 47 سینٹ یا 0.66 فیصد گر کر 70.32 ڈالر فی بیرل پر آ گیا۔
کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹِم واٹرر کے مطابق سرمایہ کار دوحہ مذاکرات کے مثبت نتائج کی توقع کر رہے ہیں، تاہم آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل کی مکمل بحالی ابھی تک نظر نہیں آ رہی، اس لیے مارکیٹ محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے کہا ہے کہ ایران اور عمان کے ماہرین آئندہ چند روز میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری راستوں کے نئے تعین پر بات چیت کریں گے، جبکہ ایران طے شدہ راستوں سے ہٹ کر چلنے والے بحری جہازوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کی کوشش کرے گا۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ آئندہ دنوں میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی سطح پر مذاکرات طے نہیں ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دوحہ میں متوقع ملاقات اہم بھی ہو سکتی ہے اور نہیں بھی، اس کا اندازہ جلد ہو جائے گا۔
دریں اثنا شپنگ ڈیٹا کے مطابق مشرق وسطیٰ کے تیل اور ایل این جی برآمد کنندگان حالیہ حملوں کے باوجود اپنی ترسیل جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گولڈمین ساکس کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خلیجی خطے سے تیل کی سپلائی بحالی کی موجودہ رفتار برقرار رہی تو جولائی کے آغاز تک یومیہ ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح، یعنی تقریباً 23 ملین بیرل، تک پہنچ سکتی ہے۔






















Comments