ٹرمپ کو بڑا دھچکا، امریکی سینیٹ نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
- سینیٹ میں جنگی اختیارات (وار پاورز) سے متعلق قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کی گئی
امریکی سینیٹ نے منگل کے روز ایک قانون سازی کی منظوری دے دی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی روکنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس اقدام کو کانگریس کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر بڑھتی ہوئی تنقید کا اہم اظہار قرار دیا جا رہا ہے۔
سینیٹ میں جنگی اختیارات (وار پاورز) سے متعلق قرارداد 48 کے مقابلے میں 50 ووٹوں سے منظور کی گئی۔ اس سے قبل ایوانِ نمائندگان بھی رواں ماہ کے آغاز میں اس قرارداد کی منظوری دے چکا تھا۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ دونوں ایوانوں نے 1973 کے وار پاورز ایکٹ کے تحت کسی صدر کو فوجی کارروائی ختم کرنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کی ہے۔
اگرچہ اس قرارداد کو زیادہ تر علامتی حیثیت دی جا رہی ہے، تاہم اسے صدر ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے تک ٹرمپ کو کانگریس میں ریپبلکن ارکان کی تقریباً مکمل حمایت حاصل تھی، لیکن ایران کے ساتھ جاری غیر مقبول تنازع پر ان کی جماعت کے بعض ارکان نے بھی اختلاف کا اظہار کیا ہے۔
سینیٹ میں چار ریپبلکن سینیٹرز نے تقریباً تمام ڈیموکریٹ ارکان کے ساتھ قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ دو ریپبلکن ارکان نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ ایوانِ نمائندگان میں بھی چار ریپبلکن ارکان نے ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا اور قرارداد 208 کے مقابلے میں 215 ووٹوں سے منظور ہوئی تھی۔
وائٹ ہاؤس کا مؤقف ہے کہ یہ قانون سازی آئین کے مطابق نہیں اور اس لیے اس پر عمل درآمد لازمی نہیں۔ ماہرین قانون کے مطابق اس معاملے کی آئینی حیثیت متنازع ہے اور امکان ہے کہ اس کا حتمی فیصلہ عدالتوں میں ہوگا۔























Comments