قطر گیس پلانٹ دھماکہ، 13 افراد ہلاک، درجنوں زخمی
- یہ واقعہ خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات میں ہونے والے حالیہ مہلک ترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے
قطر کے توانائی مرکز میں ایک بڑے دھماکے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک اور 66 زخمی ہو گئے، یہ بات خلیجی ریاست کے وزیرِ توانائی نے پیر کے روز بتائی۔ یہ واقعہ خلیجی خطے کی توانائی تنصیبات میں ہونے والے حالیہ مہلک ترین حادثات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے واضح کیا کہ یہ حادثہ تھا، نہ کہ تخریب کاری یا کسی دشمن کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ ان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ایران کے ساتھ جاری جنگ کے دوران خلیجی توانائی تنصیبات کو پہلے بھی حملوں کا سامنا رہا ہے۔
وزیرتوانائی کے مطابق مرنے والوں میں بھارتی اور پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔ زخمی ہونے والے 66 افراد کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے اور ان میں سے کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔
قطر کی وزارتِ داخلہ نے ابتدائی طور پر اسے تکنیکی حادثہ قرار دیتے ہوئے بتایا تھا کہ دھماکہ اتوار کی رات راس لفان صنعتی زون میں ہوا۔ بعد میں حکام نے کہا کہ یہ واقعہ بارزان گیس سپلائی یونٹ میں آپریشن شروع کرنے کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں آگ اور دھماکہ ہوا۔
حکام کے مطابق آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ قطر انرجی نے بھی تصدیق کی کہ ہنگامی ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے آگ بجھا دی۔
راس لفان میں واقع یہ گیس مرکز دنیا کے سب سے بڑے مائع قدرتی گیس (ایل این جی) حب میں شمار ہوتا ہے۔ دھماکے کے باوجود وزیرِ توانائی نے کہا کہ اس واقعے سے برآمدات یا مقامی گیس سپلائی پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور نہ ہی ماحولیات کو نقصان پہنچا ہے۔
توانائی حکام کے مطابق بارزان پلانٹ پہلے یومیہ 1.4 ارب معیاری مکعب فٹ گیس مقامی پاور پلانٹس اور صنعتی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
قطر، جو ایران کے ساتھ جنوبی پارس گیس فیلڈ شیئر کرتا ہے، امریکہ، آسٹریلیا اور روس کے ساتھ دنیا کے بڑے ایل این جی برآمد کنندگان میں شامل ہے۔ تاہم حالیہ کشیدگی اور خطے میں حملوں کے بعد اس کی توانائی برآمدات پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔























Comments