کابینہ کمیٹی برائے ایس او ایز نے پی ایس او معاہدے سمیت پی این ایس سی اور آئی آر اے ڈی اے میں اہم تقرریوں کی منظوری دے دی
- سرکاری ملکیتی اداروں سے متعلق کمیٹی نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے لیے عوامی خدمت کی ذمہ داری (پی ایس او) معاہدے کی منظوری دے دی، جس کے ذریعے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے کیے گئے وعدوں کو باضابطہ حیثیت حاصل ہو گئی
کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں (سی سی او ایس او ایز) نے جمعہ کو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈبلیو ایکس ڈسکوز) کے لیے عوامی خدمت کی ذمہ داری (پی ایس او) معاہدے کی منظوری دے دی، اس اقدام کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ پاکستان کے معاہدوں کے مطابق سروس کے وعدوں کو باضابطہ بنانا ہے، جبکہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن اور تحقیقی و ترقیاتی ادارہ (انڈجینس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی، آئی آر اے ڈی اے) میں کلیدی بورڈ تقرریوں کو بھی کلیئر کرنا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت فنانس ڈویژن میں سی سی او ایس او ایز کا اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی خالد حسین مگسی اور وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری کے علاوہ وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں، ڈویژنز، ریگولیٹری اداروں اور سرکاری ملکیتی اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
کمیٹی نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کراچی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کے حوالے سے بحری امور ڈویژن کی جانب سے جمع کرائی گئی سمری پر غور کیا۔
تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سرکاری ملکیتی اداروں (گورننس اینڈ آپریشنز) ایکٹ 2023 اور قابلِ اطلاق گورننس فریم ورک کی شقوں کے مطابق مجوزہ تقرریوں کی منظوری دے دی۔
کمیٹی نے پاور ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی سمری کا بھی جائزہ لیا اور ڈبلیو ایکس ڈسکوز کے حوالے سے عوامی خدمت کی ذمہ داری (پی ایس او) معاہدے کی منظوری دے دی، جس کا مقصد حکومتِ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے درمیان طے شدہ شرائط کے مطابق عوامی خدمت کی ذمہ داریوں کو بروقت باضابطہ شکل دینا ہے۔
مزید برآں، سائنس و ٹیکنالوجی ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی اس سمری پر بھی غور کیا گیا جس میں انڈجینس ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ ایجنسی (آئی آر اے ڈی اے) کے بورڈ میں ڈائریکٹرز کی تقرری سے متعلق سفارشات شامل تھیں۔ یہ ادارہ رواں سال جنوری میں دفاع، صنعت اور تعلیمی شعبوں میں معیاری تحقیق کی قیادت کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس سمری کی بھی منظوری دے دی گئی۔
























Comments