تاریخی معاہدے کا اثر، ایرانی آئل ٹینکرز امریکی ناکہ بندی عبور کرگئے، شپنگ ڈیٹا
- امریکی بحری ناکہ بندی نے مئی میں ایران کی خام تیل کی برآمدات کو چھ سال کی کم ترین سطح تک گرا دیا ہے
شپنگ ڈیٹا کے مطابق رواں ہفتے کم از کم تین آئل ٹینکرز جن میں ایرانی تیل لدا ہوا تھا امریکی بحری ناکہ بندی کو عبور کرکے گزر گئے ہیں جبکہ ایک چوتھا خالی جہاز خلیج عمان کی طرف بڑھ رہا ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے ایک فریم ورک معاہدے پر اتفاق کرلیا ہے۔
یہ شپمنٹس ایرانی تیل کی برآمدات کی بتدریج بحالی کی نشاندہی کرتی ہیں جس سے عالمی رسد میں اضافے کی توقع ہے، اگرچہ چین جو کہ ایران کا سب سے بڑا خریدار ہے، وہاں مقامی مارجن (منافع) کم ہونے کے باعث طلب میں سستی پائی جاتی ہے۔
شپ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق دو ویری لارج کروڈ کیریئرز (وی ایل سی سیز) ہیرو II اور ڈیونا جن میں سے ہر ایک میں 20 لاکھ بیرل تیل موجود ہے آبنائے ہرمز سے گزر کر خلیجِ عمان تک پہنچ چکے ہیں اور مشرق کی جانب روانہ ہیں۔
سویز میکس جہاز سونیا I جو 10 لاکھ بیرل تیل لے جا رہا ہے بھی امریکی ناکہ بندی سے گزر چکا ہے اور سنگاپور کی جانب بڑھ رہا ہے۔ یہ بات شپ ٹریکنگ کمپنیوں کے ڈیٹا سے ظاہر ہوئی ہے۔
کیپلر کے اعدادوشمار کے مطابق ہیرو II نے اپنا کارگو مارچ کے آخر میں لوڈ کیا تھا جبکہ ڈیونا اور سونیا I پر کارگو کی لوڈنگ 8 سے 9 اپریل کے درمیان کی گئی تھی۔
کیپلر اور ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ایران سے منسلک وی ایل سی سی اسٹریم جو کہ خالی ہے امریکی ناکہ بندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
امریکی بحری ناکہ بندی جو ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت روکنے کے بعد لگائی گئی تھی نے مئی میں ایران کی خام تیل کی برآمدات کو چھ سال کی کم ترین سطح یعنی 260,000 بیرل یومیہ تک گرا دیا ہے۔ یہ مقدار 2025 کے اوسط 1.67 ملین بیرل یومیہ کے پانچویں حصے سے بھی کم ہے جیسا کہ کیپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے منگل کو بتایا کہ جنگ ختم کرنے کے لیے دونوں فریقین کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کے تحت امریکہ ایران کو فوری طور پر تیل اور ایندھن فروخت کرنے کی اجازت دے گا۔
مشرقِ وسطیٰ سے تیل کی مزید رسد کی توقعات نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں کو جو 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے تیزی سے بڑھی تھیں، تین ماہ کی کم ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔




















Comments