BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.04%)
KSE100 Increased By (0.23%)
KSE30 Increased By (0.27%)
BAFL 56.85 Decreased By ▼ -0.02 (-0.04%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.46 Increased By ▲ 0.11 (0.36%)
CNERGY 13.17 Increased By ▲ 0.05 (0.38%)
DFML 16.70 Increased By ▲ 0.80 (5.03%)
DGKC 193.40 Increased By ▲ 0.95 (0.49%)
FABL 94.15 Increased By ▲ 0.01 (0.01%)
FCCL 52.97 Increased By ▲ 0.18 (0.34%)
FFL 14.77 Increased By ▲ 0.05 (0.34%)
GGL 19.15 Decreased By ▼ -0.41 (-2.1%)
HBL 307.50 Increased By ▲ 1.40 (0.46%)
HUBC 201.95 Increased By ▲ 0.53 (0.26%)
HUMNL 10.16 No Change ▼ 0.00 (0%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.55 Increased By ▲ 0.09 (0.34%)
MLCF 93.66 Increased By ▲ 0.50 (0.54%)
OGDC 315.95 Decreased By ▼ -0.78 (-0.25%)
PAEL 35.70 Increased By ▲ 0.07 (0.2%)
PIBTL 14.99 Increased By ▲ 0.31 (2.11%)
PIOC 243.70 Increased By ▲ 0.49 (0.2%)
PPL 226.00 Decreased By ▼ -0.91 (-0.4%)
PRL 93.41 Increased By ▲ 0.39 (0.42%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.85 Increased By ▲ 0.04 (0.17%)
TELE 7.87 Increased By ▲ 0.07 (0.9%)
TPLP 12.95 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
TRG 56.81 Increased By ▲ 0.25 (0.44%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مہنگائی آئندہ چند ماہ تک دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ہے، اسٹیٹ بینک

  • جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی دو ہندسوں (ڈبل ڈیجٹ) میں برقرار رہ سکتی ہے، جس کے بعد بتدریج اس میں کمی کا امکان ہے۔

مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 10.9 فیصد اور مئی میں سالانہ بنیادوں پر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث سپلائی چین میں خلل شامل ہے۔

جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق کم بیس ایفیکٹ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے مہنگائی میں براہ راست اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ مقامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تنازع کے باعث بنیادی مہنگائی اپریل میں 8.2 فیصد اور مئی میں 8.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ گندم اور اس سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران غذائی مہنگائی میں نمایاں اضافے کا سبب بنا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی آئندہ چند ماہ تک ڈبل ڈیجٹ میں رہ سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ اگلے مالی سال کے اختتام تک اوسط مہنگائی 8.2 فیصد تک آ سکتی ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس معاشی منظرنامے کو متعدد خطرات لاحق ہیں، جن میں جغرافیائی سیاسی حالات، عالمی قیمتوں کا مقامی ایندھن کی قیمتوں پر اثر، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیاں، مالیاتی خسارے میں اضافہ، اور موسمیاتی عوامل کے باعث غذائی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔

اقتصادی سروے میں بھی کہا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی بڑھتی قیمتیں پیداواری اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھا کر مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھ سکتی ہیں، جس سے صنعتی شعبے کی لاگت اور بیرونی شعبے کے استحکام کو چیلنجز لاحق ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں مہنگائی نسبتاً مستحکم رہی، تاہم تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بیرونی جھٹکوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس سے معیشت کی کمزوری بڑھ گئی ہے اور پالیسی میں محتاط اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف