BR100 Increased By (1.47%)
BR30 Increased By (1.75%)
KSE100 Increased By (1.68%)
KSE30 Increased By (1.72%)
BAFL 60.99 Increased By ▲ 0.85 (1.41%)
BIPL 27.80 Increased By ▲ 1.12 (4.2%)
BOP 36.48 Increased By ▲ 0.75 (2.1%)
CNERGY 8.38 Increased By ▲ 0.10 (1.21%)
DFML 19.87 Increased By ▲ 0.34 (1.74%)
DGKC 219.00 Decreased By ▼ -2.05 (-0.93%)
FABL 97.30 Increased By ▲ 2.71 (2.86%)
FCCL 57.94 Increased By ▲ 0.55 (0.96%)
FFL 18.12 Increased By ▲ 0.09 (0.5%)
GGL 21.04 Increased By ▲ 0.01 (0.05%)
HBL 300.00 Increased By ▲ 4.02 (1.36%)
HUBC 231.56 Increased By ▲ 2.80 (1.22%)
HUMNL 11.75 Increased By ▲ 0.09 (0.77%)
KEL 8.26 Increased By ▲ 0.19 (2.35%)
LOTCHEM 28.08 Decreased By ▼ -0.61 (-2.13%)
MLCF 98.75 Increased By ▲ 0.62 (0.63%)
OGDC 328.98 Increased By ▲ 4.35 (1.34%)
PAEL 43.95 Increased By ▲ 0.86 (2%)
PIBTL 18.16 Increased By ▲ 0.20 (1.11%)
PIOC 291.00 Decreased By ▼ -1.30 (-0.44%)
PPL 238.55 Increased By ▲ 5.77 (2.48%)
PRL 36.32 Increased By ▲ 0.63 (1.77%)
SNGP 112.94 Increased By ▲ 10.27 (10%)
SSGC 30.43 Increased By ▲ 2.77 (10.01%)
TELE 9.37 Increased By ▲ 0.18 (1.96%)
TPLP 11.87 Increased By ▲ 0.50 (4.4%)
TRG 69.42 Increased By ▲ 0.57 (0.83%)
UNITY 11.61 Increased By ▲ 0.03 (0.26%)
WTL 1.29 No Change ▼ 0.00 (0%)
کاروبار اور معیشت

مہنگائی آئندہ چند ماہ تک دو ہندسوں میں رہنے کا امکان ہے، اسٹیٹ بینک

  • جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔
شائع June 16, 2026 اپ ڈیٹ June 16, 2026 09:30am

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی دو ہندسوں (ڈبل ڈیجٹ) میں برقرار رہ سکتی ہے، جس کے بعد بتدریج اس میں کمی کا امکان ہے۔

مانیٹری پالیسی بیان کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی شرح 7.3 فیصد سے بڑھ کر اپریل میں 10.9 فیصد اور مئی میں سالانہ بنیادوں پر 11.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس اضافے کی بڑی وجوہات میں عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے باعث سپلائی چین میں خلل شامل ہے۔

جولائی تا اپریل مالی سال 2026 کے دوران اوسط مہنگائی 6.2 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 4.7 فیصد تھی۔

رپورٹ کے مطابق کم بیس ایفیکٹ کے علاوہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے مہنگائی میں براہ راست اضافہ کیا ہے، جس کی وجہ مقامی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہے، جبکہ بالواسطہ طور پر ٹرانسپورٹ اور پیداواری لاگت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

تنازع کے باعث بنیادی مہنگائی اپریل میں 8.2 فیصد اور مئی میں 8.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس کے علاوہ گندم اور اس سے بنی مصنوعات کی قیمتوں میں غیر متوقع اضافہ بھی گزشتہ دو ماہ کے دوران غذائی مہنگائی میں نمایاں اضافے کا سبب بنا۔

مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے اندازہ لگایا ہے کہ مہنگائی آئندہ چند ماہ تک ڈبل ڈیجٹ میں رہ سکتی ہے، تاہم بعد ازاں اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ وفاقی حکومت نے بھی پیش گوئی کی ہے کہ اگلے مالی سال کے اختتام تک اوسط مہنگائی 8.2 فیصد تک آ سکتی ہے۔

تاہم اسٹیٹ بینک نے خبردار کیا ہے کہ اس معاشی منظرنامے کو متعدد خطرات لاحق ہیں، جن میں جغرافیائی سیاسی حالات، عالمی قیمتوں کا مقامی ایندھن کی قیمتوں پر اثر، بجلی اور گیس کے نرخوں میں ممکنہ تبدیلیاں، مالیاتی خسارے میں اضافہ، اور موسمیاتی عوامل کے باعث غذائی قیمتوں میں غیر یقینی صورتحال شامل ہیں۔

اقتصادی سروے میں بھی کہا گیا ہے کہ عالمی توانائی کی بڑھتی قیمتیں پیداواری اور ٹرانسپورٹ لاگت بڑھا کر مہنگائی کے دباؤ کو برقرار رکھ سکتی ہیں، جس سے صنعتی شعبے کی لاگت اور بیرونی شعبے کے استحکام کو چیلنجز لاحق ہوں گے۔

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 کے پہلے تین سہ ماہیوں میں مہنگائی نسبتاً مستحکم رہی، تاہم تیسری سہ ماہی کے اختتام پر بیرونی جھٹکوں اور جغرافیائی کشیدگی کے باعث اس میں دوبارہ اضافہ ہوا، جس سے معیشت کی کمزوری بڑھ گئی ہے اور پالیسی میں محتاط اور بروقت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف