امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے معاہدے پر متفق، دستخط جمعہ کو ہوں گے، وزیراعظم
- یہ معاہدہ ایسے وقت طے پایا جب اتوار کو اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، جس پر ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے تنقید کی
امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک معاہدے پر پہنچ گئے ہیں اور اس معاہدے پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔ یہ اعلان پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے پیر کی صبح سوشل میڈیا پر کیا۔
یہ معاہدہ ایسے وقت طے پایا جب اتوار کو اسرائیل نے لبنان پر حملہ کیا، جس پر ایران اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دونوں نے تنقید کی۔
معاہدے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آئیں، تاہم شہباز شریف کے مطابق اس میں تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے فوری اور مستقل خاتمے بشمول لبنان کی شق شامل ہے۔
قبل ازیں متعدد ذرائع نے رائٹرز کو بتایا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دی جائے گی، ایرانی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ختم کی جائے گی اور جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاملات مزید 60 روزہ مذاکرات کے دوران طے کیے جائیں گے۔
پاکستانی وزیراعظم کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں معاہدے کی تصدیق کی۔
اتوار کو ایرانی مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیل کا تازہ حملہ، جس کے بارے میں اسرائیل کا کہنا تھا کہ اس کا ہدف حزب اللہ تھی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکہ کے پاس اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے کی نہ تو صلاحیت ہے اور نہ ہی ارادہ۔ انہوں نے یہ بیان ایکس پر جاری کیا۔

ایرانی وزارت خارجہ نے اس حملے کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا۔ ایران نے سخت جواب دینے کی دھمکی دی، جبکہ اس کی اعلیٰ مشترکہ فوجی کمان نے کہا کہ انگلی ٹریگر پر ہے اور دشمن کے قلب پر حملہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ آج صبح بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا، خاص طور پر ایسے دن جب ہم ایران کے ساتھ ایک امن معاہدے کے اتنے قریب ہیں۔
اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ مجوزہ امریکہ-ایران معاہدے کا فریق نہیں ہے۔ وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور ٹرمپ کے درمیان اس معاملے پر اختلافات موجود ہیں، کیونکہ امریکہ اسرائیل سے لبنان میں فوجی کارروائیاں محدود کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔
لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع فروری میں ایران کے خلاف شروع ہونے والی امریکہ-اسرائیل جنگ کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر گیا تھا۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے قبل ازیں رائٹرز کو بتایا تھا کہ مجوزہ معاہدے کے تحت امریکہ ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 25 ارب ڈالر جاری کرنے پر آمادہ ہو گا، جبکہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے اور نہ ہی حاصل کرنے پر رضامند ہو گا۔
عہدیدار کے مطابق ایران اس بات پر بھی متفق ہوا ہے کہ حتمی معاہدے تک جوہری پروگرام کی موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی، جس میں یورینیم کی افزودگی نہ کرنا اور جوہری تنصیبات میں توسیع نہ کرنا شامل ہے۔


Comments