آئی اے ای اے کا ایران سے تعاون بحال کرنے کا مطالبہ
- ایران کے ساتھ مکمل اور مؤثر سیف گارڈز کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ تہران ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے، رافیل گروسی
اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی) کے سربراہ رافیل گروسی نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایجنسی کے ساتھ دوبارہ رابطے قائم کرے تاکہ ان جوہری مقامات پر معائنہ دوبارہ شروع کیا جا سکے جن پر گزشتہ سال امریکا اور اسرائیل نے بمباری کی تھی۔
رافیل گروسی نے پیر کے روز آئی اے ای اے کے 35 رکنی بورڈ آف گورنرز کے اجلاس کے آغاز پر کہا کہ ایران کو چاہیے کہ وہ تعمیراتی طور پر دوبارہ رابطے میں آئے تاکہ جوہری نگرانی کے نظام کو مؤثر طور پر بحال کیا جا سکے۔
انہوں نے ایک تحریری بیان میں بھی کہا کہ ایران کے ساتھ مکمل اور مؤثر سیف گارڈز کے نفاذ کے لیے ضروری ہے کہ تہران ایجنسی کے ساتھ تعاون کرے۔
رپورٹ کے مطابق ایران نے اب تک ایجنسی کو یہ نہیں بتایا کہ بمباری کے بعد ان جوہری تنصیبات اور وہاں موجود جوہری مواد، بشمول 60 فیصد تک افزودہ یورینیم، کا کیا ہوا۔ یہ سطح ہتھیار بنانے کے معیار کے قریب سمجھی جاتی ہے۔
آئی اے ای اے کے مطابق اگرچہ حملوں میں یورینیم افزودگی کی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا یا تباہ کر دیا گیا، تاہم خدشہ ہے کہ زیادہ تر افزودہ یورینیم محفوظ رہ گیا ہے۔
رافیل گروسی نے اجلاس کے دوران کہا کہ ایران کے ساتھ رابطے کا چینل تقریباً منقطع ہو چکا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ان کے ایرانی وزیر خارجہ اور دیگر حکام کے ساتھ صرف کبھی کبھار رابطے ہوتے ہیں، مگر مجموعی طور پر رابطہ بحال نہیں رہا۔
آئی اے ای اے نے فروری میں سیکیورٹی خدشات کے باعث کچھ مقامات پر معائنہ معطل کر دیا تھا، تاہم اس کے بعد سے صرف بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کا معائنہ جاری رکھا گیا ہے۔
آئی اے ای اے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ تعاون کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کی جائیں تاکہ جوہری نگرانی کا نظام مؤثر بنایا جا سکے۔





















Comments