BR100 Decreased By (-1.07%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.89%)
KSE30 Decreased By (-1.04%)
BAFL 57.99 Decreased By ▼ -0.36 (-0.62%)
BIPL 25.35 Decreased By ▼ -0.19 (-0.74%)
BOP 33.26 Decreased By ▼ -0.53 (-1.57%)
CNERGY 8.04 Decreased By ▼ -0.11 (-1.35%)
DFML 19.20 Decreased By ▼ -1.51 (-7.29%)
DGKC 194.00 Decreased By ▼ -3.20 (-1.62%)
FABL 88.39 Decreased By ▼ -1.64 (-1.82%)
FCCL 53.01 Decreased By ▼ -0.48 (-0.9%)
FFL 17.62 Decreased By ▼ -0.22 (-1.23%)
GGL 20.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.25%)
HBL 281.50 Decreased By ▼ -4.19 (-1.47%)
HUBC 212.00 Decreased By ▼ -2.12 (-0.99%)
HUMNL 11.15 Increased By ▲ 0.04 (0.36%)
KEL 7.87 Decreased By ▼ -0.15 (-1.87%)
LOTCHEM 28.87 Increased By ▲ 0.82 (2.92%)
MLCF 85.15 Decreased By ▼ -2.25 (-2.57%)
OGDC 317.00 Decreased By ▼ -3.31 (-1.03%)
PAEL 39.50 Decreased By ▼ -0.75 (-1.86%)
PIBTL 17.15 Increased By ▲ 0.01 (0.06%)
PIOC 267.98 Decreased By ▼ -6.60 (-2.4%)
PPL 224.75 Decreased By ▼ -3.98 (-1.74%)
PRL 34.30 Decreased By ▼ -0.19 (-0.55%)
SNGP 97.76 Decreased By ▼ -1.07 (-1.08%)
SSGC 26.37 Decreased By ▼ -0.46 (-1.71%)
TELE 8.43 Decreased By ▼ -0.10 (-1.17%)
TPLP 10.33 Increased By ▲ 1.00 (10.72%)
TRG 69.55 Decreased By ▼ -2.06 (-2.88%)
UNITY 11.32 Decreased By ▼ -0.24 (-2.08%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
دنیا

ایران اور اسرائیل کے درمیان حملوں کا سلسلہ عارضی طور پر تھم گیا

  • گزشتہ 24 گھنٹوں میں ہونے والے حملے اپریل کی جنگ بندی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا براہِ راست ٹکراؤ ہیں
شائع June 8, 2026 اپ ڈیٹ June 8, 2026 08:21pm

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوری طور پر فائرنگ بند کرنے کی اپیل کے بعد پیر کو ایران اور اسرائیل نے ایک دوسرے پر حملے روکنے کا اعلان کیا ہے، تاہم تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر اسرائیل نے لبنان میں حزب اللہ پر حملے جاری رکھے تو وہ دوبارہ عسکری کارروائی شروع کر دے گا۔

گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی حملوں کی لہر اپریل کی جنگ بندی کے بعد سے ایران اور اسرائیل کے درمیان سب سے بڑا براہِ راست تصادم ہے، جس سے تین ماہ سے زائد عرصے سے جاری جنگ کو ختم کرنے کے لیے تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی واشنگٹن کی کوششوں کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

حملوں کے اس سلسلے کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں 5 فیصد تک بڑھ گئی تھیں، تاہم بعد میں اس وقت قیمتوں میں کمی دیکھی گئی جب ایرانی فوج نے اعلان کیا کہ اسرائیل پر اس کے حملوں کا پہلا مرحلہ ختم ہو چکا ہے۔ دوسری جانب امریکی ڈالر بھی تقریباً دو ماہ کی اپنی بلند ترین سطح سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔

معاملے سے باخبر ایک ذریعے نے برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ اسرائیل نے بھی ایران پر اپنے حملے روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ اتوار کو دیر گئے تہران کی جانب سے اسرائیلی علاقے پر میزائل داغے جانے کے بعد اسرائیل نے ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ تہران کا کہنا تھا کہ اس کے حملے بیروت کے مضافات میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے ٹھکانوں پر اسرائیلی بمباری کا جواب تھے۔

اسرائیل نے جنوب مغربی ایران میں ایک پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ پلانٹ بیلسٹک میزائل بنانے کے لیے استعمال ہو رہا تھا۔ جواب میں ایران کی سپاہِ پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل کے شہر حیفہ میں اسی نوعیت کے ایک پلانٹ کو نشانہ بنایا ہے۔

ایرانی فوجی ہیڈ کوارٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں بشمول اتوار کو بیروت کے مضافات میں ہونے والی بمباری کا ”دردناک جواب دے دیا ہے“۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اس کے مطابق مسلح افواج کی کارروائیاں اب ختم کرنے کا اعلان کیا جاتا ہے، تاہم اس بات پر زور دیا جاتا ہے کہ اگر جارحیت اور شرپسندی کی کارروائیاں جاری رہیں بشمول جنوبی لبنان میں تو اس بار پہلے سے کہیں زیادہ سخت اور تباہ کن اقدامات کیے جائیں گے۔

حملوں کے اس تبادلے نے جنگ کو ختم کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کو پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کا آغاز امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو کیا تھا اور یہ صورتحال اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ تنازع کتنی آسانی سے ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 8 اپریل کو اعلان کردہ جنگ بندی نے ہمہ جہت جنگ کو تو روک دیا تھا لیکن خلیج میں کشیدگی کا یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

سوشل میڈیا پر اپنی متعدد پوسٹس میں سے ایک میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اسرائیل اور ایران دونوں فوری جنگ بندی چاہتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ امن کے لیے حتمی مذاکرات آگے بڑھ رہے ہیں، بشرطیکہ جہالت یا حماقت اس کے راستے میں رکاوٹ نہ بنے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا، ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

Comments

200 حروف