کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی بھارت پہنچ گئے، مودی حکومت کے خلاف احتجاج کا اعلان
- اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ تھا کہ بھارت واپسی پر مجھے گرفتار کیا جاسکتا ہے، ابھیجیت دپکے
بھارت کی وائرل کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ہفتے کو نئی دہلی پہنچ گئے تاکہ وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے خلاف احتجاج کی قیادت کریں،اور ملک کی سب سے بڑی آن لائن یوتھ موومنٹ کو پہلی بار سڑکوں پر لے آئیں۔
30 سالہ ابھیجیت دپکے جو گزشتہ دو سال سے امریکہ میں مقیم ہیں نے بتایا تھا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو یہ خدشہ تھا کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
ہفتے کو نئی دہلی کے وسطی علاقے جنتر منتر کے قریب درجنوں پولیس اہلکار جمع ہو گئے جنہوں نے اطراف کی کچھ سڑکوں کو بیریکیڈز لگا کر بند کردیا جبکہ مظاہرین نے نعرے بازی کرتے ہوئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
مودی حکومت نے ملک میں اس تحریک کا ایکس اکاؤنٹ بلاک کردیا جس کے اس اقدام کو کاکروچ جنتا پارٹی نے دہلی کی ایک عدالت میں چیلنج کیا ہے۔ دوسری جانب سینئر کابینہ وزیر کرن ریجیجو نے اس گروپ پر پاکستان سے فالوورز حاصل کرنے اور بھارت مخالف گروہ سے وابستگی کا الزام عائد کیا ہے۔
یہ گروپ جس نے مئی کے وسط میں آغاز کے بعد سے اب تک انسٹاگرام پر تقریباً 22 ملین (2 کروڑ 20 لاکھ) فالوورز جمع کر لیے ہیں، ہندو قوم پرست مودی کی 12 سالہ حکمرانی کے خلاف آن لائن سطح پر سب سے بڑی مزاحمتی آواز کے طور پر سامنے آیا ہے۔ اس تحریک کو ہوا دینے میں نوجوانوں میں مسلسل بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور امتحانی پرچوں کے بار بار آؤٹ (لیک) ہونے کے واقعات شامل ہیں جس سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حال ہی میں اہم ریاستی انتخابات میں مودی کی پارٹی کی کامیابیوں کے باوجود اس گروپ کی مقبولیت نے ان کے امیج کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے جبکہ ایران جنگ کی وجہ سے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور گیس قلت پر عوامی سطح پر مایوسی مزید گہری ہوتی جارہی ہے۔
دوسری جانب پولیس نے لاؤڈ اسپیکرز کا استعمال کرتے ہوئے لوگوں کو ہفتے کو ہونے والے احتجاج کے لیے مقررہ جگہ کی طرف جانے کی ہدایت کی۔
تحریک کے ترجمان آشوتوش رانکا نے کہا ہے کہ یہ ملک کے نوجوانوں کی ایک پرامن تحریک ہے، دپکے بھارت کی سیاست میں ایک طویل اور بڑے دن کے لیے تیار ہیں۔
بھارت میں 15 سے 29 سال کی عمر کے لوگوں کی تعداد تقریباً 40 کروڑ ہے اور تیز رفتار معاشی ترقی کے باوجود ان کے لیے غیر زرعی ملازمتیں پیدا کرنا ملک کے سب سے بڑے چیلنجز میں سے ایک ہے۔ اپریل میں شہری نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 14 فیصد تھی۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بہت سے پڑھے لکھے نوجوان ایسی کم تنخواہ یا غیر محفوظ ملازمتوں میں بھی پھنسے ہوئے ہیں جو ان کی مہارتوں کے مطابق نہیں ہیں۔



















Comments