پاکستان جلد امریکا اور ایران مذاکرات کے نئے دور کی میزبانی کیلئے پر امید ہے، وزیراعظم
- خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز
وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کے روز کہا ہے کہ امید ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور جلد ہی پاکستان میں منعقد کیا جائے گا، کیونکہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو رہی ہیں۔
ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اپنی امن کی کوششیں انتہائی خلوص کے ساتھ جاری رکھے گا اور امید ظاہر کی کہ جلد اسلام آباد میں ایک اور مذاکراتی دور کی میزبانی کی جائے گی۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز متعدد ممالک کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی تاکہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوششوں پر غور کیا جا سکے۔
ٹرمپ کے مطابق اس رابطے میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، مصر، اردن، بحرین اور پاکستان کے رہنما شامل تھے۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان ایک معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے، تاہم اسے حتمی شکل دی جانی باقی ہے، اور یہ بھی کہا کہ حتمی تفصیلات پر ابھی بات چیت جاری ہے اور جلد اعلان کیا جائے گا۔
پاکستان کی نمائندگی اس رابطے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جو چیف آف ڈیفنس فورسز ہیں۔ بعد ازاں وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کی امن کوششوں کو غیر معمولی قرار دیا اور اس گفتگو کو انتہائی مفید اور تعمیری بتایا۔
پاکستان حالیہ ہفتوں میں اپنی سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ کر چکا ہے اور اسے واشنگٹن اور تہران کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے ایک ابتدائی فریم ورک تیار کرنے میں مدد کی ہے جس کا مقصد امریکا ایران تعطل کو ختم کرنا ہے، اور ممکن ہے کہ آئندہ مذاکرات اسلام آباد مذاکرات کے نام سے پاکستان میں منعقد ہوں۔
یہ مذاکرات ایک نازک جنگ بندی کے بعد ہو رہے ہیں جو 8 اپریل کو نافذ ہوئی تھی، جب خطے میں کئی ماہ کی کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں اور بحری تجارتی راستوں کو متاثر کیا تھا۔
ایران نے بھی مذاکرات میں پیش رفت کے اشارے دیے ہیں، اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران امریکا کے ساتھ فریم ورک کی تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔
ٹرمپ نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کی بحالی سے متعلق اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے۔

























Comments