تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بغیر 53 ارب ڈالر کے آئی ایس پی پلان کی منظوری طلب
- نئے مہنگے منصوبوں کے باعث بجلی کی قیمت 70 روپے فی یونٹ تک جا سکتی ہے، ریحان جاوید
حکومت نے بدھ کے روز نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی سے 53 ارب ڈالر سے زائد لاگت کے انٹیگریٹڈ سسٹم پلان (آئی ایس پی) 2025-35 کی منظوری طلب کر لی، تاہم یہ منصوبہ کسی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کے بغیر پیش کیا گیا، جس پر صنعت سے وابستہ حلقوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس منصوبے کے نتیجے میں بجلی کی قیمتوں میں تقریباً 4 روپے فی یونٹ اضافہ ہو سکتا ہے۔
دو روزہ عوامی سماعت کی صدارت نیپرا چیئرمین وسیم مختار نے کی، جبکہ ممبر ٹیرف اینڈ فنانس آمنہ احمد اور ممبر ڈویلپمنٹ مقصود انور خان بھی شریک تھے۔ سندھ اور بلوچستان کی نمائندگی اجلاس میں موجود نہیں تھی۔
آئی ایس ایم او کے عمر فاروق اور پرائیویٹ پاور اینڈ انفرااسٹرکچر بورڈ/پی پی ایم سی کے نوید قیصر نے منصوبہ پیش کیا۔ آئی ایس پی 2025-35 میں انڈیکیٹو جنریشن کیپیسٹی ایکسپنشن پلان (آئی جی سی ای پی) 2025-35 اور ٹرانسمیشن سسٹم ایکسپنشن پلان (ٹی ایس ای پی) 2024-34 شامل ہیں۔ منصوبہ 2.6 فیصد بجلی طلب میں اضافے کے تخمینے پر مبنی ہے۔
حکام کے مطابق منصوبے میں تقریباً 9 ہزار میگاواٹ اضافی نیٹ میٹرنگ صلاحیت اور 3 ہزار میگاواٹ مارکیٹ بیسڈ قابل تجدید توانائی شامل کی گئی ہے۔ بعض پاور پلانٹس کو ٹرانسمیشن مسائل کے باعث 2027-28 تک گرمیوں میں مسٹ رن قرار دیا گیا ہے۔
منصوبے کے تحت بجلی کی خریداری کی قیمت 25 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر 37.28 روپے فی یونٹ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا، تاہم حکام نے مؤقف اختیار کیا کہ صارفین پر اس کا خالص اثر تقریباً 4 روپے فی یونٹ ہوگا۔
صنعتی نمائندوں نے اس منصوبے پر شدید تنقید کی۔ کراچی سے تعلق رکھنے والے ریحان جاوید نے خبردار کیا کہ نئے مہنگے منصوبوں کے باعث بجلی کی قیمت 70 روپے فی یونٹ تک جا سکتی ہے، جس سے صنعتیں بند ہونے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔
نوید قیصر نے بتایا کہ 26 ہزار میگاواٹ کے ابتدائی منصوبوں میں سے 17,485 میگاواٹ کے منصوبے منتخب کیے گئے، جس سے 300 سے 400 ارب روپے کی بچت ممکن ہوئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ 2028 تک کے الیکٹرک کو قومی گرڈ سے 3 ہزار میگاواٹ بجلی فراہم کی جائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments