پرنس رحیم آغا خان پنجم پہلے سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے
- صدر آصف علی زرداری نے نور خان ائیربیس آمد پر استقبال کیا
صدر آصف علی زرداری نے نور خان ائیربیس آمد پر پرنس رحیم آغا خان پنجم کا استقبال کیا جو پاکستان کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔
ایوانِ صدر کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق فروری 2025 میں اپنے والد پرنس کریم آغا خان چہارم کی وفات کے بعد شیعہ اسماعیلی مسلم کمیونٹی کے 50 ویں امام کی حیثیت سے قیادت سنبھالنے کے بعد پرنس رحیم آغا خان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔
ایوانِ صدر آمد پر معزز مہمان کو پاکستان آرمی، پاکستان نیوی اور پاکستان ائیر فورس کے دستوں پر مشتمل مسلح افواج کا روایتی گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
صدر آصف علی زرداری، خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری اور چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری نے پرنس رحیم آغا خان پنجم سے ملاقات کی، جس کے بعد وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔
صدر مملکت نے معزز مہمان کے اعزاز میں ایک ضیافت کا بھی اہتمام کیا جس میں وزیر اعظم محمد شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر (چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس اسٹاف)، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، وفاقی وزراء، ارکانِ پارلیمنٹ اور سفارتی برادری کے ارکان نے شرکت کی۔
صدر نے صحت، تعلیم، سماجی ترقی، موسمیاتی لچک (کلائمیٹ ریزیلینس) اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے شعبوں میں آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (اے کے ڈی این) کے پاکستان کے لیے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کمزور طبقات کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے اے کے ڈی این کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
پرنس رحیم آغا خان نے گرمجوشی سے استقبال کرنے پر صدر کا شکریہ ادا کیا اور پاکستان میں ترقیاتی و فلاحی اقدامات کی حمایت جاری رکھنے کے لیے اے کے ڈی این کے پختہ عزم کو دہرایا۔
پرنس رحیم کا پاکستان کا آخری دورہ 2024 میں ہوا تھا، جب صدر نے آغا خان خاندان کی پاکستان کے لیے دیرینہ خدمات کے اعتراف میں انہیں ملک کا اعلیٰ ترین سویلین اعزاز ’نشانِ پاکستان‘ عطا کیا تھا۔
آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ کے ڈائریکٹر اور اے کے ڈی این کے مالیاتی خدمات کے سربراہ سلطان علی الانا، جماعتی اداروں کے شعبہ کے سربراہ شفیق سچدینا، اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے صدر نزار نور محمد میوا والا اور اسماعیلی کونسل برائے پاکستان کے نائب صدر اکبر لادک بھی وفد کا حصہ تھے۔






















Comments