BR100 Increased By (0.03%)
BR30 Decreased By (-0.03%)
KSE100 Decreased By (-0.1%)
KSE30 Increased By (0%)
BAFL 56.99 Increased By ▲ 0.25 (0.44%)
BIPL 26.82 Decreased By ▼ -0.22 (-0.81%)
BOP 33.36 Decreased By ▼ -0.32 (-0.95%)
CNERGY 10.22 Increased By ▲ 0.41 (4.18%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 208.90 Increased By ▲ 1.03 (0.5%)
FABL 98.97 Increased By ▲ 0.07 (0.07%)
FCCL 53.68 Increased By ▲ 0.16 (0.3%)
FFL 16.40 Decreased By ▼ -0.28 (-1.68%)
GGL 23.85 Increased By ▲ 0.28 (1.19%)
HBL 302.32 Decreased By ▼ -2.07 (-0.68%)
HUBC 219.03 Increased By ▲ 0.92 (0.42%)
HUMNL 10.55 Decreased By ▼ -0.11 (-1.03%)
KEL 7.20 Decreased By ▼ -0.15 (-2.04%)
LOTCHEM 29.38 Increased By ▲ 0.27 (0.93%)
MLCF 96.01 Increased By ▲ 0.51 (0.53%)
OGDC 317.70 Decreased By ▼ -0.24 (-0.08%)
PAEL 41.88 Increased By ▲ 0.05 (0.12%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.13 (0.79%)
PIOC 296.12 Increased By ▲ 16.11 (5.75%)
PPL 219.75 Increased By ▲ 0.01 (0%)
PRL 47.85 Increased By ▲ 3.26 (7.31%)
SNGP 106.30 Decreased By ▼ -1.19 (-1.11%)
SSGC 29.02 Increased By ▲ 0.09 (0.31%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.07 (0.8%)
TPLP 12.25 Increased By ▲ 0.15 (1.24%)
TRG 60.19 Increased By ▲ 0.16 (0.27%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.06 (-0.59%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

تیل کے ذخائر میں شدید کمی، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کر دیا

  • چند ہفتے باقی ہیں، مگر تیزی سے کم ہوتے یہ ذخائر ہمیشہ نہیں رہیں گے، فاتح بیرول
شائع اپ ڈیٹ

انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے سربراہ نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کی وجہ سے خلیجی ممالک سے سپلائی معطل ہونے کے باعث تیل کے تجارتی ذخائر بہت تیزی سے کم ہو رہے ہیں، یہاں تک کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی جانب سے اپنے اسٹریٹجک ذخائر مارکیٹ میں لانے کے باوجود یہ کمی برقرار ہے۔

شمالی نصف کرہ میں گرمیوں کے سفری سیزن کے آغاز کے ساتھ ہی تیل کی قلت کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ ایئر لائنز نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپلائی میں یہ خلل برقرار رہا تو چند ہفتوں میں ہوائی جہازوں کے ایندھن (جیٹ فیول) کی شدید قلت پیدا ہو سکتی ہے۔

پیرس میں جی 7 ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں آمد پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے فاتح بیرول نے کہا کہ تجارتی ذخائر میں کمی واقع ہو رہی ہے، میرا خیال ہے کہ اب یہ بہت تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس اب بھی چند ہفتے باقی ہیں لیکن ہمیں اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے کہ یہ ذخائر تیزی سے گھٹ رہے ہیں اور یہ لامحدود نہیں ہیں جہاں سے ہمیشہ سپلائی ملتی رہے۔

ایران نے فروری کے آخر میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے ہرمز کے ذریعے آئل ٹینکرز کی آمد و رفت کو مؤثر طریقے سے روک دیا ہے، جس نے تیل اور گیس کی سپلائی کا گلا گھونٹ دیا ہے اور قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔

آئی ای اے نے رواں ماہ بتایا کہ جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ناکامی کے باعث مختلف ممالک اپنے تجارتی اور اسٹریٹجک ذخائر سے ریکارڈ رفتار سے تیل نکال رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو دھمکی دی تھی کہ وقت تیزی سے نکل رہا ہے اور اگر اس کمزور جنگ بندی کے دوران کوئی امن معاہدہ طے نہ پایا تو ایران کا کچھ باقی نہیں بچے گا۔

آئی ای اے نے اپنے 32 رکن ممالک کے ہنگامی ذخائر سے 42 کروڑ 60 لاکھ (426 ملین) بیرل تیل مارکیٹ میں لانے کے عمل کو مربوط کیا ہے اور اس مہینے بتایا کہ تقریباً 16 کروڑ 40 لاکھ (164 ملین) بیرل تیل پہلے ہی نکالا جا چکا ہے۔

Comments

200 حروف