آئل ریفائنریز، ایس آئی ایف سی کی بڑے ٹیکس بگاڑ کے خاتمے کی یقین دہانی
- پاکستان میں پالیسیوں، خاص طور پر ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے، ساجد محمود قاضی
اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی) نے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں آئل ریفائنریز کے لیے ایک بڑے ٹیکس ڈسٹورشن (ٹیکس بگاڑ) کو ختم کیا جائے گا۔
یہ بات ایس آئی ایف سی کے ایڈیشنل سیکرٹری ساجد محمود قاضی نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیر اہتمام سی ایف او کانفرنس 2026 کے سوال و جواب سیشن میں کہی۔
انہوں نے تسلیم کیا کہ سرمایہ کاری کے لحاظ سے پاکستان ایک مشکل ملک ہے اور سرمایہ کاروں کو کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جن میں توانائی کی قیمتیں شامل ہیں جو سرمایہ کاری میں بڑی رکاوٹ ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں پالیسیوں، خاص طور پر ٹیکس پالیسیوں میں تسلسل کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو ایک مستقل اور غیر تبدیل ہونے والی پالیسی کے تحت سرمایہ کاری اور کاروبار کی توسیع کا موقع ملنا چاہیے، اور حکومت کو بار بار پالیسی تبدیل نہیں کرنی چاہیے۔
انہوں نے آئل ریفائنریز کی اپ گریڈیشن میں ٹیکس مسائل کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے براون فیلڈ ریفائنری اپ گریڈیشن پالیسی کے تحت سیلز ٹیکس اور دیگر آپریشنل رکاوٹوں کو دور کرنے کی تجویز تیار کی ہے۔ ٹیکس قانون میں تبدیلی کے باعث یہ شعبہ متاثر ہوا تھا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی ار)، وزارت خزانہ اور پٹرولیم ڈویژن کے ساتھ مذاکرات کے بعد آئندہ بجٹ 2026-27 میں سیلز ٹیکس کا مسئلہ حل کیا جائے گا، جس کے بعد آئل ریفائنریز اپنی اپ گریڈیشن کے عمل کو تیز کر سکیں گی۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی قیمتیں اب بھی سرمایہ کاروں کے لیے بڑا چیلنج ہیں اور بعض مسائل اب بھی مقامی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
ایس آئی ایف سی کے ایڈیشنل سیکرٹری نے ملک کی کاروباری برادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس، توانائی اور شرح سود جیسے مسائل کے باوجود کاروباری طبقہ نمایاں کارکردگی دکھا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں کئی نئی آئی پی اوز (ابتدائی عوامی پیشکشیں) آئی ہیں جو سرمایہ کاروں کے لیے مثبت اشارہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود کاروباری برادری قابلِ تحسین کام کر رہی ہے۔
سابق وزیر مملکت اور معروف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اشفاق ٹولہ نے سرمایہ کاری کے لیے ساختی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں بیرونی پالیسیوں کی نقل کرنے کے بجائے مقامی حالات کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے 23 آئی ایم ایف پروگرام لیے ہیں اور اب 24ویں کے لیے تیاری کر رہا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اتنے پروگراموں کے بعد حکومتی پالیسیوں میں کیا بنیادی تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مسلسل کوششوں کے باوجود حکومت زراعت، ریٹیلرز اور برآمد کنندگان کو مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں نہیں لا سکی۔
پینل ڈسکشن کے دوران ماہرِ معیشت ہارون شریف نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری اس وقت آتی ہے جب مقامی سرمایہ کار توسیع اور نئی سرمایہ کاری کریں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو جغرافیائی سیاسی خطرات کا بھی سامنا ہے جو غیر ملکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments