غلط رویے پر ایران پر دوبارہ حملوں کا امکان رد نہیں کیا جاسکتا، ٹرمپ
- ایران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی وہ قیمت ادا نہیں کی جس کی توقع تھی، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے تصور سے آگاہ کیا گیا ہے تاہم وہ اس کی حتمی تفصیلات کے منتظر ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے غلط رویہ اختیار کیا تو اس پر دوبارہ حملوں کا امکان بھی رد نہیں کیا جا سکتا۔
یہ بات انہوں نے فلوریڈا کے شہر ویسٹ پام بیچ سے میامی روانگی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ ٹرمپ کے مطابق انہیں معاہدے کے ابتدائی تصور سے آگاہ کیا گیا ہے اور اب اس کی مکمل عبارت فراہم کی جائے گی، تاہم انہیں شبہ ہے کہ یہ تجاویز قابلِ قبول ہوں گی۔
دوسری جانب ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے کہا ہے کہ تہران نے ایک نیا سفارتی منصوبہ پیش کیا ہے جس کے تحت آبنائے ہرمز کو کھولا جائے گا اور امریکی پابندیوں میں نرمی کی جائے گی، جبکہ ایران کے جوہری پروگرام پر تفصیلی مذاکرات بعد میں کیے جائیں گے۔ یہ عہدیدار اس شرط پر بات کر رہا تھا کہ اس کا نام ظاہر نہ کیا جائے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر لکھا کہ ایران نے اب تک اپنی کارروائیوں کی وہ قیمت ادا نہیں کی جس کی توقع تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ فوجی کارروائی کے امکان کو خارج از امکان نہیں سمجھتے، تاہم فوری فیصلہ صورتحال پر منحصر ہوگا۔
ایران کے وزیر خارجہ نے اس موقع پر کہا ہے کہ اگر امریکہ اپنا طرزِ عمل تبدیل کرے تو تہران سفارت کاری کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران کی تجویز میں پابندیوں کے خاتمے، منجمد اثاثوں کی واپسی اور معیشت پر دباؤ کم کرنے جیسے نکات شامل ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایران نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ جوہری معاملات پر بات چیت کو بعد کے مرحلے میں رکھا جائے تاکہ پہلے جنگ بندی اور اعتماد سازی ممکن ہو سکے۔ اس منصوبے کے تحت ایران آبنائے ہرمز میں بحری راستے کھولنے پر آمادگی ظاہر کرے گا، جبکہ امریکہ اور اتحادی ممالک سے فوجی کارروائی نہ کرنے کی ضمانت طلب کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے اور عالمی توانائی منڈیوں پر اس کے اثرات بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
























Comments