روبرو مذاکرات کی ناکامی کے باوجود پاکستان کی ایران امریکہ خلیج کم کرنے کی کوششیں جاری
- اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے یا ہمیں کال کر سکتے ہیں، ٹرمپ کی فاکس نیوز سے گفتگو
پاکستان کے باوثوق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان اختلافات کو ختم کرنے کی کوششیں تھمی نہیں ہیں، حالانکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے وفد کا دورہ منسوخ کرنے اور ایران کو معاہدے کے لیے فون کرنے کی ہدایت کے بعد روبرو سفارت کاری فی الوقت ناکام ہو چکی ہے۔
ہفتے کو امریکی صدر کی جانب سے اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد منسوخ کیے جانے کے بعد امن کی امیدیں مدھم پڑ گئی ہیں، جہاں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ویک اینڈ پر دو بار چکر لگائے۔ پیر کے روز عراقچی اپنے دیرینہ اتحادی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات کے لیے روس پہنچ گئے ہیں۔ دوسری جانب فریقین کے درمیان جوہری عزائم اور آبنائے ہرمز تک رسائی جیسے معاملات پر اختلافات برقرار رہنے کی وجہ سے پیر کو عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھا گیا اور برینٹ کروڈ 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کے پروگرام دی سنڈے بریفنگ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں کال کر سکتے ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ ٹیلیفون موجود ہے اور ہمارے پاس محفوظ لائنیں ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔
اسلام آباد میں مذاکرات کی توقع پر لگایا گیا ایک ہفتہ طویل لاک ڈاؤن اب ختم کر دیا گیا ہے اور جس لگژری ہوٹل کو مذاکرات کے لیے خالی کرایا گیا تھا، وہاں دوبارہ عوام کے لیے بکنگ شروع کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ مذاکرات اب ریموٹ طریقے (بالواسطہ) سے جاری ہیں اور جب تک فریقین کسی یادداشت پر دستخط کرنے کے قریب نہیں پہنچ جاتے، روبرو ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔
اگرچہ 28 فروری سے شروع ہونے والے امریکہ اسرائیل حملوں کے بعد اب جنگ بندی ہے لیکن جنگ کے مکمل خاتمے کے لیے تاحال کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔ اس جنگ نے ہزاروں جانیں لیں اور عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بلاک کر رکھی ہے، جبکہ امریکہ نے ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی شروع کر دی ہے، جسے ایران مذاکرات کے لیے پہلی شرط قرار دیتا ہے۔
صدر ٹرمپ کو ملک کے اندر سے بھی جنگ ختم کرنے کے لیے دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ ایران عسکری طور پر کمزور ہونے کے باوجود آبنائے ہرمز کی بندش کو مذاکرات میں بطور ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ ادھر لبنان میں بھی لڑائی میں شدت آگئی ہے، جہاں اسرائیلی حملوں میں اتوار کو 14 افراد جاں بحق ہوئے۔ ایران کا موقف ہے کہ جب تک لبنان میں جنگ بندی نہیں ہوتی وہ وسیع تر تنازع پر مذاکرات نہیں کرے گا۔ دوسری جانب اسرائیل اور حزب اللہ ایک دوسرے پر سیز فائر کی خلاف ورزی کا الزام لگا رہے ہیں۔

























Comments