ستارہ پیٹرولیم کا آئی پی او، 4.8 ارب روپے تک کا سرمایہ اکٹھا کرنے کا ہدف
- بک بلڈنگ کا عمل 4 اور 5 مئی کو شیڈول، 11 اور 12 مئی کو عام عوام کیلئے سبسکرپشن کا آغاز ہوگا
لاہور میں قائم فیول ٹریڈنگ کمپنی ستارہ پیٹرولیم سروس لمیٹڈ (ایس پی ایس ایل) نے اپنے ابتدائی عوامی پیشکش (آئی پی او) کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے آئی پی او پراسپیکٹس کے مطابق اس پیشکش کا مقصد اپنے فیول ریٹیل نیٹ ورک، لاجسٹکس آپریشنز اور اسٹوریج انفرااسٹرکچر کی توسیع کے لیے 4.8 ارب روپے (17.2 ملین امریکی ڈالر) تک کا سرمایہ اکٹھا کرنا ہے۔
تفصیلات کے مطابق تقسیم، ریٹیل اور پیٹرولیم لاجسٹکس کے شعبوں سے وابستہ یہ کمپنی مجموعی طور پر 27 کروڑ 99 لاکھ عام حصص پیش کر رہی ہے جو آئی پی او کے بعد اس کے کل پیڈ اپ کیپٹل کا 16.66 فیصد بنتا ہے۔ ان میں سے 16 کروڑ 80 لاکھ حصص عام عوام کو پیش کیے جا رہے ہیں جبکہ 11 کروڑ 19 لاکھ حصص پہلے ہی پری آئی پی او ٹرانزیکشن کے ذریعے فروخت کیے جا چکے ہیں۔
بک بلڈنگ کا عمل 4 اور 5 مئی کو شیڈول کیا گیا ہے جس کے بعد 11 اور 12 مئی کو عام عوام کے لیے سبسکرپشن کا آغاز ہوگا۔
آئی پی او بک بلڈنگ طریقہ کار سے 13.50 روپے فی شیئر کی فلور پرائس (کم از کم قیمت) پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں 40 فیصد تک کا پرائس بینڈ رکھا گیا ہے جس کے تحت حصص کی بالائی حد 18.90 روپے تک جا سکتی ہے۔
اس پیشکش کا تقریباً 75 فیصد حصہ ادارہ جاتی سرمایہ کاروں اور کثیر سرمایہ رکھنے والے افراد کے لیے مختص کیا جائے گا جبکہ بقیہ 25 فیصد حصہ عام (ریٹیل) سرمایہ کاروں کو اسٹرائیک پرائس (طے شدہ قیمت) پر پیش کیا جائے گا۔
عارف حبیب لمیٹڈ اس ایشو کے لیے لیڈ منیجر اور بک رنر کے طور پر فرائض انجام دے رہا ہے۔
کمپنی پہلے ہی پری آئی پی او مرحلے میں 14.85 روپے فی شیئر کے حساب سے تقریباً 1.66 ارب روپے کا سرمایہ اکٹھا کر چکی ہے۔ آئی پی او کے حصے سے کیپ پرائس (بالائی حد) پر 3.175 ارب روپے تک حاصل ہونے کی توقع ہے جس کے بعد مجموعی حاصلات تقریباً 4.83 ارب روپے ہو جائیں گی۔
آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم کا بڑا حصہ آئل اسٹوریج ٹرمینل کی تعمیر، فیول اسٹیشنز کی توسیع اور کمپنی کے ٹینکر بیڑے میں اضافے پر خرچ کیا جائے گا۔ فنڈز کی تقسیم میں سب سے زیادہ حصہ اسٹوریج ٹرمینل کا ہے جو آئی پی او حاصلات کا تقریباً 56 فیصد ہے جس کے بعد ریٹیل نیٹ ورک کی توسیع اور لاجسٹکس کا نمبر آتا ہے۔
کمپنی آئندہ دو سال میں اپنے ریٹیل نیٹ ورک کو 100 سے زائد آؤٹ لیٹس تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جبکہ 2027 تک اپنے ٹینکرز کی تعداد 370 گاڑیوں تک پہنچانے کا ہدف ہے۔ اس کے علاوہ اسٹوریج کی گنجائش میں اضافہ کرنا کمپنی کی اس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت وہ آنے والے سالوں میں ایک آئل مارکیٹنگ کمپنی بننے کی راہ پر گامزن ہے۔
چیف ایگزیکٹو آفیسر ظہیر بیگ نے کہا کہ آئی پی او، ستارہ پیٹرولیم کو ایک مربوط کاروباری ماڈل کی طرف منتقلی میں مدد دے گا جس سے اسٹوریج انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور ریٹیل و لاجسٹکس نیٹ ورک کی توسیع ممکن ہو سکے گی جبکہ اس سے آپریشنل کنٹرول اور طویل مدتی ترقی کے امکانات بھی بہتر ہوں گے۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے سی ای او شاہد علی حبیب نے کہا کہ ستارہ پیٹرولیم کا آئی پی او پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کی بڑھتی ہوئی گہرائی اور پختگی کی عکاسی کرتا ہے جہاں مضبوط بنیاد رکھنے والی اور ترقی کی خواہشمند کمپنیاں تیزی سے ایکویٹی فنانسنگ (حصص کے ذریعے سرمایہ کاری) کی طرف رجوع کر رہی ہیں۔
کمپنی کے سی ای او نے مزید کہا کہ ہمارا ماننا ہے کہ یہ پیشکش سرمایہ کاروں کے لیے ایک ابھرتے ہوئے اور وسیع پیمانے پر پھیلنے والے کاروبار میں حصہ لینے کا ایک بہترین موقع فراہم کرتی ہے۔
مالی لحاظ سے ستارہ پیٹرولیم نے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ کمپنی کی آمدن مالی سال 2024 کے 40.9 ارب روپے سے بڑھ کر مالی سال 2025 میں 121.9 ارب روپے تک پہنچ گئی ہے جبکہ بعد از ٹیکس منافع 3.25 ارب روپے تک بڑھ گیا ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی تک کمپنی کی نیٹ ورتھ 11.37 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔






















Comments