سارک ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کی ضرورت پر زور
- وسیع تر صلاحیت کے باوجود سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت محض 5 فیصد تک محدود ہے، بزنس کمیونٹی
پاکستان کی بزنس کمیونٹی نے جنوبی ایشیائی ممالک کے درمیان علاقائی تجارت کے مضبوط انضمام کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ وسیع تر صلاحیت کے باوجود سارک ممالک کے درمیان باہمی تجارت محض 5 فیصد تک محدود ہے۔
بزنس مین پینل (بی ایم پی) ساؤتھ کے ترجمان اور رائس ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے سابق چیئرمین رفیق سلیمان نے سارک چیمبر کی قیادت ، بالخصوص سارک چیمبر کے نائب صدر انجم نثار کو اسلام آباد میں سارک چیمبر ہیڈ کوارٹرز کی تکمیل اور افتتاح پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ علاقائی تجارت کے فروغ کیلئے ایک مثبت پیشرفت ہے کیونکہ نو تعمیر شدہ سارک ہیڈ کوارٹر تجارت کی سہولت، پالیسی مکالمے اور تحقیق پر مبنی اقدامات میں مددگار ثابت ہوگا۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ نیا انفراسٹرکچر معاشی تعاون کو بڑھانے کی کوششوں میں معاون ثابت ہوگا اور علاقائی تجارت کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ حکمت عملیوں کی تیاری میں ایک موثر پلیٹ فارم مہیا کرے گا۔
رفیق سلیمان نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی تقریباً 20 فیصد آبادی کا مسکن ہونے کے ناطے جنوبی ایشیا صارفین کی ایک بہت بڑی منڈی اور پیداواری صلاحیت کا حامل ہے، اس کے باوجود یہ معاشی طور پر دنیا کے سب سے کم مربوط خطوں میں سے ایک ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر سارک ممالک کے درمیان تجارت کو مؤثر طریقے سے فروغ دیا جائے تو اس سے رکن ممالک کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آسکتی ہے اور بیرونی خطوں کی منڈیوں پر انحصار کم کیا جاسکتا ہے۔
دیگر علاقائی بلاکس سے موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے نشاندہی کی کہ آسیان میں علاقائی ممالک کے درمیان باہمی تجارت تقریباً 36 فیصد اور یورپی یونین میں 60 فیصد سے زائد ہے، جبکہ سارک ممالک کے درمیان یہ تجارت محض 5 فیصد تک محدود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فرق ڈھانچہ جاتی اور پالیسی کے خلا کی عکاسی کرتا ہے جنہیں مربوط کوششوں کے ذریعے دور کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے سارک ممالک کی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ معمولی سیاسی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے، رابطوں کو بہتر بنانے اور ضوابط میں ہم آہنگی پیدا کر کے معاشی تعاون پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے سیاحت، صحت، ادویات سازی، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں بھی زیادہ سے زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا، جن میں سرحد پار شراکت داری کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔
رفیق سلیمان نے مزید برآں تجارت کی نئی راہیں تلاش کرنے اور مسابقت کو بہتر بنانے کیلئے سارک پلیٹ فارم کے تحت تحقیق اور ترقی کو وسعت دینے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے کے ممالک کے درمیان باہمی تجارت کے فروغ سے نہ صرف معیشتیں مضبوط ہونگی بلکہ روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں گے اور خطے کے عوام کی مجموعی فلاح و بہبود میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ درست پالیسی سمت اور اجتماعی عزم کے ذریعے سارک ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکتے ہیں اور ایک زیادہ مربوط اور خوشحال علاقائی معیشت کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔






















Comments