فارن ایکسچینج ذخائر کو مضبوط کرنے کیلئے سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول
- سعودی عرب نے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے اضافی ڈپازٹس کی یقین دہانی کرائی ہے
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے جمعرات کے روز اعلان کیا ہے کہ اسے وزارتِ خزانہ مملکتِ سعودی عرب سے 2 ارب امریکی ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ سعودی عرب نے 3 ارب ڈالر کی اضافی ڈپازٹس کا وعدہ کیا ہے، جن کی جلد فراہمی متوقع ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے موجودہ 5 ارب ڈالر کی ڈپازٹ اب پہلے والے سالانہ رول اوور معاہدے کے تحت نہیں رہے گی بلکہ اسے تین سال کے لیے توسیع دے دی گئی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق پاکستان کو یہ اضافی مالی معاونت اس پیش رفت کے بعد حاصل ہوئی ہے کہ ریاض نے پہلے سے موجود 5 ارب ڈالر کی ڈپازٹ کے رول اوور کو بھی طویل مدت کے لیے بڑھا دیا ہے۔ انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔
سعودی وزارتِ خزانہ کے ترجمان نے رائٹرز کو بتایا کہ ”ہم اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ سعودی عرب نے پاکستان کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے ڈپازٹ پر اتفاق کیا ہے، تاکہ اس کے ادائیگیوں کے توازن ( بیلنس آف پیمنٹس) کو سہارا دیا جا سکے۔“
پاکستان کو اس ماہ متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر واپس کرنے ہیں، جس نے اس کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھا دیا ہے، جو 27 مارچ تک تقریباً 16.4 ارب ڈالر کی سطح پر تھے۔
یو اے ای کو کی جانے والی یہ ادائیگی ان ذخائر کا تقریباً 18 فیصد بنتی ہے۔
سعودی عرب نے ماضی میں بھی مالی مشکلات کے ادوار میں پاکستان کی مدد کے لیے بارہا کردار ادا کیا ہے۔
2018 میں ریاض نے پاکستان کے لیے 6 ارب ڈالر کے پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس میں 3 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں ڈپازٹ اور 3 ارب ڈالر کی موخر ادائیگی پر تیل کی فراہمی شامل تھی۔






















Comments