BR100 Decreased By (-0.92%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.75%)
KSE30 Decreased By (-0.71%)
BAFL 56.68 Decreased By ▼ -0.19 (-0.33%)
BIPL 24.75 Decreased By ▼ -0.21 (-0.84%)
BOP 30.10 Decreased By ▼ -0.25 (-0.82%)
CNERGY 12.91 Decreased By ▼ -0.21 (-1.6%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.30 Decreased By ▼ -5.15 (-2.68%)
FABL 93.87 Decreased By ▼ -0.27 (-0.29%)
FCCL 51.49 Decreased By ▼ -1.30 (-2.46%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.29 Decreased By ▼ -1.81 (-0.59%)
HUBC 198.89 Decreased By ▼ -2.53 (-1.26%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.04 Decreased By ▼ -0.05 (-0.82%)
LOTCHEM 26.10 Decreased By ▼ -0.36 (-1.36%)
MLCF 91.45 Decreased By ▼ -1.71 (-1.84%)
OGDC 312.99 Decreased By ▼ -3.74 (-1.18%)
PAEL 35.26 Decreased By ▼ -0.37 (-1.04%)
PIBTL 14.72 Increased By ▲ 0.04 (0.27%)
PIOC 240.47 Decreased By ▼ -2.74 (-1.13%)
PPL 221.35 Decreased By ▼ -5.56 (-2.45%)
PRL 90.97 Decreased By ▼ -2.05 (-2.2%)
SNGP 90.95 Decreased By ▼ -0.89 (-0.97%)
SSGC 23.28 Decreased By ▼ -0.53 (-2.23%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 55.74 Decreased By ▼ -0.82 (-1.45%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

جولائی تا مارچ: پی ایس ڈی پی کیلئے مختص فنڈز کا 70.4 فیصد جاری

  • حکومت نے رواں مالی سال کے لیے ابتدائی طور پر ایک کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت مالی سال 2025-26 کے جولائی تا مارچ کے دوران اخراجات مجموعی منظور شدہ بجٹ کے 70.4 فیصد اور نظرثانی شدہ بجٹ کے 45.5 فیصد رہے۔

حکومت نے رواں مالی سال کے لیے ابتدائی طور پر ایک کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے کم کر کے 910 ارب روپے کر دیا گیا۔ وزارتِ منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مطابق جولائی تا مارچ کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 588.76 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ اصل اخراجات 414.96 ارب روپے رہے۔

وزارتِ خزانہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق پی ایس ڈی پی کے تحت فنڈز کی تقسیم چار حصوں میں کی جاتی ہے، جس میں پہلی سہ ماہی میں 15 فیصد، دوسری میں 20 فیصد، تیسری میں 25 فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں 40 فیصد فنڈز جاری کیے جاتے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 408.27 ارب روپے منظور کیے گئے، جن میں سے اب تک 300.68 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔

نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) اور پاور سیکٹر (این ٹی ڈی سی/پیپکو) کے لیے 180.5 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جبکہ 114.3 ارب روپے خرچ ہوئے۔ اسی طرح این ایچ اے کے لیے 133.03 ارب روپے جاری کیے گئے، جن میں سے 72.98 ارب روپے استعمال ہوئے، جبکہ پاور سیکٹر کے لیے 47.45 ارب روپے منظور ہوئے جن میں سے 41.3 ارب روپے خرچ کیے گئے۔

پانی کے وسائل، تعلیم، صحت، داخلہ، ریلوے، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں کے لیے بھی اربوں روپے جاری کیے گئے، جن میں نمایاں حصے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ ہو چکے ہیں۔ حکام کے مطابق مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے اور اخراجات کی رفتار سہ ماہی بنیادوں پر بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف