اسرائیلی وزیر اعظم کی ترک صدر اردوان پر شدید تنقید
- ترکی نے تنازع کے خاتمے کے لیے مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں میں حصہ لیا ہے
اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ہفتے کے روز ترکی کے صدر رجب طیب اردوان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایران اور اس کے علاقائی اتحادیوں کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے بعد اردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی ممکنہ اشتعال انگیزیوں اور سازشوں سے محتاط رہا جائے، تاہم انہوں نے کسی مخصوص فریق کا نام نہیں لیا تھا۔
نیتن یاہو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ان کی قیادت میں اسرائیل ایران کے دہشت گرد نظام اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی جاری رکھے گا، جبکہ اردوان ان عناصر کو برداشت کرتے ہیں۔
ادھر ترکی نے اس تنازع کے خاتمے کے لیے مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر سفارتی کوششوں میں حصہ لیا ہے۔ اردوان نے امریکی صدر سے گفتگو میں جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھنے پر زور دیا تھا۔
بعد ازاں اسرائیلی وزیر دفاع نے بھی اردوان پر تنقید کرتے ہوئے انہیں کاغذی شیر قرار دیا اور کہا کہ وہ ایران کے میزائل حملوں پر خاموش رہے لیکن اسرائیل پر الزامات لگا رہے ہیں۔
اسرائیلی قیادت کے مطابق اسرائیل اپنے دفاع کے لیے طاقت اور عزم کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گا۔

























Comments