مال بردار اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کیلئے سبسڈی کی ادائیگی شروع
- سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایات پر مال بردار اور پبلک ٹرانسپورٹ آپریٹرز کے لیے اعلان کردہ سبسڈی کی ادائیگی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ بات اتوار کو لاہور میں وزیراعظم کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں بتائی گئی، جس میں حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات پر حکومتی سبسڈی پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ملک بھر میں ایندھن کے وافر ذخائر موجود ہیں جو قومی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔ اس موقع پر انٹیلی جنس بیورو کی جانب سے حکومتی کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد سے متعلق رپورٹ بھی پیش کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کرایوں میں اضافے کو روکنے کے لیے مسافر بسوں کو ماہانہ 100,000 روپے، جبکہ منی بسوں اور وینز کو 40,000 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اسی طرح ٹرکوں کو ماہانہ 70,000 روپے، بڑے مال بردار گاڑیوں کو 80,000 روپے اور ڈیلیوری وینز کو 35,000 روپے فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ روکا جا سکے۔
وزیراعظم نے شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے بتایا کہ سبسڈی ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ تمام صوبوں نے ٹرکوں، بسوں اور دیگر گاڑیوں کا مکمل ریکارڈ وفاقی حکومت کو جمع کرا دیا ہے۔
انہوں نے حکومت بلوچستان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس نے قومی پیکج کے لیے مختص فنڈز جمع کرا دیے ہیں، اور دیگر صوبوں سے بھی اسی طرز عمل کی توقع ظاہر کی۔
وزیراعظم کے مطابق گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 129 ارب روپے کا عوامی ریلیف پیکج فراہم کیا گیا ہے، جبکہ پیٹرولیم لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کر کے فوری ریلیف دیا گیا۔ مزید برآں، پاکستان ریلوے کی جانب سے 6 ارب روپے کی سبسڈی فراہم کی جا رہی ہے جس سے مسافر اور مال بردار ٹرینوں کے کرایوں میں اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ ٹول ٹیکس میں حالیہ 25 فیصد سہ ماہی اضافہ بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

























Comments