پی سی بی نے پی ایس ایل میچ کے دوران فخر زمان پر بال ٹیمپرنگ کا الزام عائد کر دیا
- یہ واقعہ آخری اوور میں پیش آیا جب کراچی کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے ایک بیان میں کہا ہے کہ لاہور قلندرز کے بیٹر فخر زمان پر اتوار کو کراچی کنگز کے خلاف کھیلے گئے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے میچ میں بال ٹیمپرنگ (گیند کی حالت بدلنے) کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
یہ واقعہ میچ کے آخری اوور میں پیش آیا جب کراچی کو جیت کے لیے 14 رنز درکار تھے۔ واقعے کے مطابق فخر زمان، لاہور کے کپتان شاہین آفریدی اور فاسٹ بولر حارث رؤف کے درمیان ایک مختصر گفتگو ہوئی، جس کے دوران فخر اور رؤف نے ایک دوسرے کو گیند پکڑائی۔ اسی دوران امپائر نے حارث رؤف کے پاس جا کر گیند دکھانے کا مطالبہ کیا۔
اسکوائر لیگ امپائر سے مشاورت کے بعد آفیشلز نے کراچی کنگز کو بطور جرمانہ 5 اضافی رنز دینے کا فیصلہ کیا اور گیند تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ یہ جرمانہ لاہور قلندرز کو مہنگا پڑا کیونکہ کراچی نے 129 رنز کا ہدف 3 گیندیں قبل ہی حاصل کر لیا۔ عباس آفریدی نے ایک چوکا اور ایک چھکا لگا کر اپنی ٹیم کو 4 وکٹوں سے فتح دلائی۔
پی سی بی کے مطابق میچ ریفری روشن ماہنامہ کی سربراہی میں ہونے والی تادیبی سماعت کے دوران فخر زمان نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ اگلے 48 گھنٹوں کے اندر ایک اور سماعت ہوگی جس کے بعد میچ ریفری اپنا حتمی فیصلہ سنائیں گے۔
میچ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی نے کہا کہ وہ اس واقعے کی ویڈیو فوٹیج دیکھیں گے۔ انہوں نے کہا مجھے اس بارے میں علم نہیں ہے، ہم دیکھیں گے کہ کیمرے میں کیا ریکارڈ ہوا ہے اور پھر اس پر بات کریں گے۔
پی ایس ایل کے قوانین کے مطابق اگر فخر زمان پہلی مرتبہ بال ٹیمپرنگ کے مرتکب پائے گئے تو انہیں ایک سے دو میچوں کی پابندی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 2018 میں جنوبی افریقہ میں بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے بعد آسٹریلوی کھلاڑیوں ڈیوڈ وارنر، اسٹیو اسمتھ اور کیمرون بینکرافٹ پر کرکٹ آسٹریلیا نے طویل پابندیاں عائد کی تھیں۔






















Comments