تاجر برادری نے جی ایس پی پلس کو لائف لائن قرار دے دیا
- اسٹیٹس کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی پراپیگنڈے کی اجازت نہیں دیں گے، ایف پی سی سی آئی
وفاقی چیمبر نے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کو پاکستان کی برآمدات کیلئے لائف لائن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ جی ایس پی پلس اسٹیٹس کے خلاف کسی بھی قسم کے منفی پراپیگنڈے کی اجازت نہیں دیں گے۔
فیڈریشن ہاؤس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ جی ایس پی پلس کے باعث یورپی ممالک کو پاکستان کی برآمدات 3.5 ارب ڈالر سے بڑھ کر تقریباً 8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ کسی کو بھی اس کے خلاف مہم چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر امان پراچہ نے کہا کہ بھارت اس سے قبل اس سہولت (جی ایس پی پلس) کو واپس کروانے کی ناکام کوششیں کر چکا ہے۔
کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر اکرم راجپوت نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ صرف کورنگی کے صنعتی علاقے سے ہی 3 ارب ڈالر مالیت کی برآمدات کی جاتی ہیں۔ انہوں نے جی ایس پی پلس کو معیشت کا ایک لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ بزنس کمیونٹی اس کی حمایت میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح متحد کھڑی ہے۔
کاٹن جنرز ایسوسی ایشن، پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر تجارتی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی پریس کانفرنس میں شرکت کی اور جی ایس پی پلس کے خلاف کسی بھی قسم کے پروپیگنڈے کی شدید مذمت کی۔
ایف پی سی سی آئی کے سینیئر رہنماؤں نے یورپی یونین کی جانب سے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی ممکنہ منسوخی پر شدید خطرے کی گھنٹی بجادی ہے اور خبردار کیا ہے کہ ایسی کوئی بھی صورتحال قومی معیشت کو تباہ کن نقصان پہنچائے گی اور لاکھوں محنت کش خاندانوں کو بے روزگاری کے اندھیروں میں دھکیل دے گی۔
یہ انتباہ لاہور میں ایف پی سی سی آئی کے ریجنل آفس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران دیا گیا جس میں ریجنل چیئرمین اور نائب صدر ذکی اعجاز، یو بی جی کے پیٹرن ان چیف ایس ایم تنویر اور ملک بھر سے دیگر ممتاز کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔






















Comments