او جی ڈی سی ایل: کوہاٹ میں گیس کے نئے ذخائر کی کامیاب جانچ مکمل
- کنویں کی کھدائی کا آغاز گزشتہ سال 10 اگست کو کیا گیا تھا
آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (او جی ڈی سی ایل) نے جمعہ کو خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں واقع بیلی تانگ-1-ایس ٹی-1 ایکسپلورٹری ویل سے لمشیوال فارمیشن میں پہلے سے دریافت شدہ گیس اور کنڈنسیٹ کی جانچ مکمل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کمپنی نے یہ پیش رفت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو جاری نوٹس میں ظاہر کی۔
نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ٹال جوائنٹ وینچر، جو آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ (30 فیصد ورکنگ انٹرسٹ)، ایم او ایل پاکستان آئل اینڈ گیس کمپنی (آپریٹر، 10 فیصد)، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (30 فیصد)، پاکستان آئل فیلڈز لمیٹڈ (25 فیصد) اور گورنمنٹ ہولڈنگز پرائیویٹ لمیٹڈ (5 فیصد) پر مشتمل ہے، نے اس دریافت پر مل کر کام کیا ہے۔
نوٹس کے مطابق اس کنویں کی کھدائی گزشتہ سال 10 اگست کو شروع کی گئی تھی، جسے بعد میں ذخائر کی بہتر کوالٹی حاصل کرنے کے لیے سائیڈ ٹریک کیا گیا اور بالآخر 4,004 میٹر کی عمودی گہرائی (میٹر ٹی وی ڈی) تک کامیابی سے ڈرلنگ مکمل کی گئی۔
ایل ڈبلیو ڈی اور وائر لائن لاگز کے ڈیٹا کی تشریح کی بنیاد پر، ’لمشیوال فارمیشن کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ اس ٹیسٹ کے دوران 32/64 انچ کے چوک پر تقریباً 26.5 ملین اسٹینڈرڈ کیوبک فٹ یومیہ گیس کی پیداوار حاصل ہوئی جبکہ ویل ہیڈ فلوئنگ پریشر 4214 پاؤنڈ فی مربع انچ ریکارڈ کیا گیا۔
بورسا کو مطلع کیا گیا ہے کہ موجودہ دریافت کی اس کامیاب جانچ نے ٹال بلاک میں مستقبل کی تلاش کے خطرات کو کم کر دیا ہے جس سے ترقی اور پیداوار کے نئے اور بہتر مواقع پیدا ہوئے ہیں۔
کمپنی نے کہا ہے کہ یہ دریافت مقامی وسائل کے ذریعے پاکستان کی توانائی کی سلامتی کو بہتر بنانے میں مدد دے گی اور ایم او ایل اس کے جوائنٹ وینچر پارٹنرز اور ملک کے ہائیڈرو کاربن ذخائر میں اضافے کا باعث بنے گی۔
عارف حبیب لمیٹڈ کے مطابق اس دریافت سے او جی ڈی سی، پی پی ایل اور پی او ایل کی سالانہ آمدنی میں بالترتیب 0.42 روپے، 0.66 روپے اور 4.80 روپے فی شیئر اضافے کی توقع ہے۔






















Comments