BR100 Decreased By (-0.23%)
BR30 Decreased By (-0.3%)
KSE100 Increased By (0.1%)
KSE30 Increased By (0.03%)
BAFL 56.84 Increased By ▲ 0.11 (0.19%)
BIPL 27.10 Increased By ▲ 0.12 (0.44%)
BOP 33.85 Increased By ▲ 0.10 (0.3%)
CNERGY 10.09 Increased By ▲ 0.21 (2.13%)
DFML 17.81 Decreased By ▼ -0.19 (-1.06%)
DGKC 204.50 Decreased By ▼ -0.43 (-0.21%)
FABL 99.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.3%)
FCCL 53.20 Increased By ▲ 0.11 (0.21%)
FFL 16.60 Increased By ▲ 0.08 (0.48%)
GGL 24.75 Decreased By ▼ -0.09 (-0.36%)
HBL 300.00 Increased By ▲ 0.18 (0.06%)
HUBC 217.75 Increased By ▲ 0.67 (0.31%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.13 (1.23%)
KEL 7.23 Increased By ▲ 0.01 (0.14%)
LOTCHEM 29.63 Increased By ▲ 0.32 (1.09%)
MLCF 91.75 Decreased By ▼ -0.41 (-0.44%)
OGDC 318.01 Increased By ▲ 1.72 (0.54%)
PAEL 41.73 Decreased By ▼ -0.31 (-0.74%)
PIBTL 16.57 Increased By ▲ 0.16 (0.98%)
PIOC 299.50 Decreased By ▼ -0.74 (-0.25%)
PPL 218.48 Increased By ▲ 1.64 (0.76%)
PRL 52.16 Increased By ▲ 1.30 (2.56%)
SNGP 101.77 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
SSGC 27.00 Increased By ▲ 0.02 (0.07%)
TELE 8.65 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 13.42 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
TRG 60.00 Increased By ▲ 0.74 (1.25%)
UNITY 10.24 Decreased By ▼ -0.06 (-0.58%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
پاکستان

پاکستان مشرق وسطیٰ کے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے، وزیراعظم

  • صدر ٹرمپ نے وزیراعظم کا بیان اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز کہا ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے جامع حل کے لیے بامعنی اور نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کے لیے تیار اور فخر محسوس کرتا ہے، بشرطیکہ امریکہ اور ایران اس پر متفق ہوں۔

وزیراعظم نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ ”پاکستان مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکراتی کوششوں کو خوش آمدید کہتا ہے اور مکمل طور پر سپورٹ کرتا ہے، تاکہ خطے اور اس سے آگے امن و استحکام قائم ہو۔“

اس پوسٹ میں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف، اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی ٹیگ کیا۔

بعد ازاں صدر ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کا بیان اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر شیئر کیا ہے۔

امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسِوس کے رپورٹر باراک راویڈ نے پیر کو ذرائع کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب بین الاقوامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ مذاکرات میں ثالثی کرنے والے ممالک ممکنہ طور پر اس ہفتے ہی اسلام آباد میں اعلیٰ سطح کے مذاکرات منعقد کرنے کی تیاری کر رہے ہیں تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔

راویڈ نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر لکھا کہ تجویز کردہ سربراہی اجلاس میں ایک طاقتور امریکی وفد شریک ہوگا، جس میں اسٹیو وٹکوف، امریکی صدر کے مشیر جیراڈ کوشنر، اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس شامل ہوں گے، جو ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور تہران کے دیگر سینئر عہدیداروں سے ملاقات کریں گے۔

فنانشل ٹائمز نے پیر کو رپورٹ کیا کہ پاکستان خود کو اس ثالثی کردار میں آگے لا رہا ہے جو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

رپورٹ میں دو ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ عاصم منیر نے اتوار کو صدر ٹرمپ سے رابطہ کیا ہے۔

ایکسِوس کے عالمی امور کے رپورٹر کے مطابق ترکی، مصر اور پاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر ابھرے ہیں، جبکہ مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ بحران میں یہ ممالک پس پردہ پیغامات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق انقرہ، قاہرہ اور اسلام آباد کے سینئر عہدیداروں نے وائٹ ہاؤس کے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ اعلیٰ سطح پر مذاکرات کیے۔

ایک امریکی ذریعے نے تصدیق کی ہے کہ ” ثالثی جاری ہے اور پیش رفت ہو رہی ہے۔ مذاکرات کا مرکز ایک جامع حل ہے: موجودہ تنازع ختم کرنا اور تمام زیر التوا اسٹریٹجک مسائل کو حل کرنا۔ ہم جلد ٹھوس جوابات کی توقع رکھتے ہیں۔“

تناؤ میں کمی کی اہم علامت کے طور پر، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ انہوں نے ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر فوجی حملے کے منصوبے معطل کر دیے ہیں۔ صدر نے مذاکرات میں واضح پیش رفت کو بنیاد قرار دیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے دوبارہ کھلنے اور جنگ ختم کرنے کے لیے ایک وسیع تر فریم ورک کے حوالے سے۔

Comments

200 حروف