ایران جنگ سے ڈلیوری رائیڈرز کی عید کی تیاریاں متاثر
- ایندھن کی بڑھتی قیمتیں پاکستان کے سب سے کم اجرت والے شہری محنت کشوں کو سب سے زیادہ متاثر کررہی ہیں
جیسے ہی عید الفطر قریب آرہی ہے کراچی کی سڑکوں پر موجود ڈلیوری رائیڈرز کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ طویل گھنٹے کام کررہے ہیں لیکن ان کی کمائی کم ہوگئی ہے۔ اب ان کے پاس نئے کپڑوں اور عید کی خوشیوں کیلئے بہت کم رقم بچتی ہے جو کہ عام طور پر اس تہوار کا خاص حصہ ہوتے ہیں۔
کچھ ہفتے پہلے تک 23 سالہ محمد محسن روزانہ تقریباً 1,500 روپے (5.38 ڈالر) کما لیتا تھا۔
اب ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں تیل کی سپلائی معطل ہونے سے پٹرول کی قیمتیں 320 روپے فی لٹر سے تجاوز کرگئی ہیں جس کی وجہ سے محسن کی روزانہ کی کمائی سکڑ کر تقریباً 1,100 روپے رہ گئی ہے۔
محسن کا کہنا ہے کہ پہلے یہ سب میرا (منافع) ہوتا تھا لیکن اب رقم کا ایک بڑا حصہ پٹرول کی نذر ہوجاتا ہے۔
ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پاکستان کے سب سے کم اجرت والے شہری محنت کشوں کو سب سے زیادہ متاثر کررہی ہیں اور بہت سے رائیڈرز بمشکل اتنی رقم کما پارہے ہیں جس سے صرف بنیادی ضروریات پوری ہوسکیں، عید کی خوشیاں منانا تو دور کی بات ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز نے ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں نصف درجن سے زائد رائیڈرز سے گفتگو کی جن میں سب کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے عید سے قبل ان کی آمدنی کو سکیڑ دیا ہے، یہ وہ وقت ہوتا ہے جب وہ عام طور پر اپنی آمدنی میں اضافے کے قابل ہوتے تھے۔
نہ مستقل تنخواہ، نہ مراعات
افراطِ زر (مہنگائی) جو 2023 میں 38 فیصد کی ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے بعد کم ہوئی تھی، اب دوبارہ تقریباً 27 فیصد تک بڑھ گئی ہے جس نے خوراک، کرایہ اور یوٹیلیٹی اخراجات میں اضافہ کردیا ہے۔ بہت سے ملازمین ماہانہ 32 ہزار روپے (114.67 ڈالر) سے بھی کم کما پاتے ہیں جبکہ انہیں نہ تو کوئی مقررہ تنخواہ ملتی ہے اور نہ ہی دیگر مراعات۔
کفایت شعاری کے اقدامات، تعلیمی اداروں کی بندش اور ورک فرم ہوم کی پالیسیوں نے آمدورفت میں کمی کردی ہے جس سے رائیڈ ہیلنگ کی آمدنی متاثر ہوئی ہے جبکہ اس کے برعکس افطار اور رواں ہفتے آنے والی عید کے باعث ڈلیوری کی طلب میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔
وہ پلیٹ فارمز جو ان ورکرز پر انحصار کرتے ہیں، بشمول گروسری ڈلیوری ایپ فوڈ پانڈا ، ان کا کہنا ہے کہ وہ قیمتوں میں ردوبدل کررہے ہیں اور رائیڈرز کی آمدنی بڑھانے کیلئے دیگر اقدامات اٹھارہے ہیں۔ لیکن ورکرز کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات بڑھتے ہوئے اخراجات کا ساتھ نہیں دے سکے اور انہیں سڑکوں پر پہلے سے زیادہ وقت گزارنا پڑ رہا ہے۔
26 سالہ ڈلیوری رائیڈر حزب اللہ نے کہا کہ ہم کپڑے یا جوتے خریدنے کی سکت نہیں رکھتے۔ بہت سے ڈرائیورز کیلئے عام طور پر خوشیوں بھرا یہ تہوار اب ایک تکلیف دہ حساب کتاب میں بدل گیا ہے کہ انہیں کسی بھی قسم کے جشن سے لطف اندوز ہونے کے لیے آخر کتنے گھنٹے کام کرنا پڑے گا۔






















Comments