کفایت شعاری مہم، سرکاری اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فیصد تک کٹوتی کا فیصلہ
- وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت اجلاس، کفایت شعاری اقدامات سے عوام کو ریلیف دینے کا فیصلہ
حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کفایت شعاری اقدامات سے حاصل ہونے والی رقوم عوامی بہبود کے لئے استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت منعقدہ ایک اجلاس میں کیا گیا جس میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر علاقائی صورتحال کے اثرات اور حکومتی کفایت شعاری کے اقدامات پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوران شرکاء نے پٹرولیم قیمتوں کو مستحکم رکھنے کے لیے پالیسی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا اور حکومت کی جانب سے اعلان کردہ کفایت شعاری کے اقدامات پر ہونے والی پیشرفت کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سرکاری ملازمین کی طرح سرکاری کاروباری اداروں اور سرکاری زیر سرپرستی خود مختار محکموں کے ملازمین کی تنخواہوں میں 5 سے 30 فیصد تک کٹوتی کی جائے گی، ان کٹوتیوں سے حاصل ہونے والی رقم عوامی ریلیف کے منصوبوں کے لیے استعمال کی جائے گی۔
اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ کارپوریشنز اور دیگر ادارے جن کے بورڈز میں حکومتی نمائندے موجود ہیں، وہ حکومتی نمائندے بورڈ میں شرکت کی فیس نہیں لیں گے اور اس فیس کو بچت کی رقم میں شامل کیا جائےگا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایف بی آر پر ہفتہ وار چار دنوں کا اطلاق نہیں ہوگا، بلکہ وہ اپنے پرانے طریقہ کار کے مطابق فرائض سرانجام دیں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ دو ماہ تمام محکموں کی سرکاری گاڑیوں کو ملنے والے تیل میں 50 فیصد کٹوتی اور سرکاری گاڑیوں کے 60 فیصد گراؤنڈ کئے جانے کے فیصلے کے حوالے سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کروایا جائے گا۔
اجلاس کو حکومت کی جانب سے نئی گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی اور باقی تمام سرکاری خریداریوں پر پابندی پر عملدرآمد پر بھی بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ آئندہ دو ماہ کیلئے کابینہ ارکان، وزراء مشیران اور معاون خصوصی کی تنخواہیں کو بھی بچت کے طور پر عوامی فلاح کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
وزراء، مشیران اور معاونین خصوصی کے بیرونی دوروں پر بھی مکمل پابندی اور ٹیلی کانفرنسنگ اور آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کے فیصلے کے اطلاق پر بھی اجلاس کو آگاہی دی گئی۔
انہوں نے ہدایت کی کہ ان تمام سادگی اور کفایت شعاری کے احکامات و اقدامات پر عمل درآمد اور نگرانی متعلقہ سیکریٹریز خود کریں گے اور روزانہ کی بنیاد پر جائزہ کمیٹی کو رپورٹ پیش کریں گے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء عطاء اللہ تارڑ، محمد اورنگزیب، علی پرویز ملک، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی، چیئرمین ایف بی آر اور متعلقہ اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔





















Comments