پنشن سسٹم میں اصلاحات، پاکستان کی ایشیائی ترقیاتی بینک سے 500 ملین ڈالر قرض کے لیے پروگرام کی تجویز
- پروگرام فی الوقت تجویز کردہ مرحلے میں ہے
پاکستان نے ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) سے 500 ملین امریکی ڈالر کا قرض حاصل کرنے کے لیے ایک پروگرام تجویز کیا ہے جس کا مقصد ملک کے سرکاری شعبے کے پنشن سسٹم میں ایسی اصلاحات لانا ہے جو اسے مالی طور پر مستحکم اور شفاف بناسکیں۔
منصوبے کی تفصیلات کے مطابق تجویز کردہ ’ٹرانسفارمنگ پبلک سیکٹر پنشن پروگرام‘ کا مقصد ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے پنشن کی بڑھتی ہوئی واجبات سے پیدا ہونے والے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
یہ پروگرام فی الوقت تجویز کردہ مرحلے میں ہے اور اس کے لیے مالی وسائل ایشیائی ترقیاتی بینک کے آرڈنری کیپیٹل ریسورسز سے فراہم کیے جائیں گے۔
اس اقدام کے تحت حکومت پنشن کے ایک زیادہ پائیدار ماڈل کی طرف منتقلی کا منصوبہ رکھتی ہے جس میں گورننس اور نگرانی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا بھی شامل ہے۔
اس پروگرام میں اصلاحات کے تین کلیدی شعبے شامل ہیں۔ پہلا مقصد پنشن کے ایک پائیدار نظام کے لیے ایسا ادارہ جاتی فریم ورک بنانا ہے جو پنشن کی واجبات کے طویل مدتی مالیاتی انتظام کو بہتر بنا سکے۔
دوسرا مقصد ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن اسکیم کے آپریشنل ڈھانچے اور نگرانی کے طریقہ کار کو بہتر بنانا ہے تاکہ اس کے نفاذ اور مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جاسکے۔
تیسرا یہ کہ پروگرام کے تحت تربیت اور آگاہی کا ایک مستقل فریم ورک قائم کیا جائے گا تاکہ سرکاری اداروں کو ڈی سی پنشن اسکیم کے نفاذ اور انتظام میں بھرپور مدد فراہم کی جاسکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ مجوزہ اصلاحات پنشن کے تیزی سے بڑھتے ہوئے بل کو کنٹرول کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں جو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کیلئے ایک بڑا مالیاتی چیلنج بن چکا ہے۔
ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پر مبنی پنشن ماڈل کی طرف منتقلی سے توقع ہے کہ اس سے طویل مدتی واجبات میں کمی آئے گی اور ساتھ ہی پنشن کے انتظام میں شفافیت اور کارکردگی بہتر ہوگی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments