BR100 Decreased By (-0.56%)
BR30 Decreased By (-0.63%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.74%)
BAFL 55.56 Decreased By ▼ -0.32 (-0.57%)
BIPL 24.41 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
BOP 28.15 Decreased By ▼ -0.38 (-1.33%)
CNERGY 12.41 Decreased By ▼ -0.47 (-3.65%)
DFML 15.73 Decreased By ▼ -0.05 (-0.32%)
DGKC 179.63 Increased By ▲ 0.60 (0.34%)
FABL 91.03 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
FCCL 51.66 Increased By ▲ 0.36 (0.7%)
FFL 13.90 Decreased By ▼ -0.16 (-1.14%)
GGL 19.34 Decreased By ▼ -0.15 (-0.77%)
HBL 286.55 Decreased By ▼ -3.22 (-1.11%)
HUBC 191.31 Decreased By ▼ -1.53 (-0.79%)
HUMNL 8.69 Decreased By ▼ -0.46 (-5.03%)
KEL 5.72 Decreased By ▼ -0.29 (-4.83%)
LOTCHEM 24.25 Decreased By ▼ -0.70 (-2.81%)
MLCF 89.64 Increased By ▲ 0.41 (0.46%)
OGDC 300.01 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 33.01 Decreased By ▼ -0.61 (-1.81%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.29 (-2.15%)
PIOC 231.29 Increased By ▲ 1.16 (0.5%)
PPL 214.32 Decreased By ▼ -4.53 (-2.07%)
PRL 101.44 Decreased By ▼ -7.37 (-6.77%)
SNGP 92.43 Increased By ▲ 2.71 (3.02%)
SSGC 23.15 Increased By ▲ 0.38 (1.67%)
TELE 6.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.85%)
TPLP 11.69 Increased By ▲ 0.16 (1.39%)
TRG 57.13 Decreased By ▼ -0.49 (-0.85%)
UNITY 7.90 Decreased By ▼ -0.21 (-2.59%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.02 (-2.11%)
پاکستان

عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال، وزیراعظم کا ہنگامی معاشی لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم

  • اجلاس کے دوران حالیہ عالمی کشیدگی اور خطے پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں بریفنگ
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں موجودہ عالمی تناظر میں ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران حالیہ عالمی کشیدگی اور خطے پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر معاشی ترقی، کفایت شعاری اور بچت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل مرتب کرے۔

یہ کمیٹی گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی پہلے ہی ایک لائحہ عمل پر کام کر رہی ہے، جس کے بارے میں اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کسی بھی ممکنہ قلت کو روکنے اور دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔

اعلامیے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا حالیہ فیصلہ اسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول، آئل اور لیوبریکنٹس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا صرف کم سے کم بوجھ ہی صارفین تک منتقل کیا گیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا، یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عین مطابق ہے۔

اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت بڑھ کر 321.17 روپے فی لٹر ہوگئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے تیل اور ایندھن کی برآمدات محدود ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

اسی دوران، وزیراعظم نے کمیٹی کو مزید فعال طریقے سے کام کرنے اور آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جو بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی جائے اسے فوری طور پر بند کر کے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے، جبکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

Comments

Comments are closed.