BR100 Decreased By (-0.68%)
BR30 Decreased By (-0.95%)
KSE100 Decreased By (-0.53%)
KSE30 Decreased By (-0.55%)
BAFL 56.68 Decreased By ▼ -0.05 (-0.09%)
BIPL 26.91 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
BOP 33.38 Decreased By ▼ -0.37 (-1.1%)
CNERGY 10.00 Increased By ▲ 0.12 (1.21%)
DFML 18.10 Increased By ▲ 0.10 (0.56%)
DGKC 200.00 Decreased By ▼ -4.93 (-2.41%)
FABL 99.23 Decreased By ▼ -0.87 (-0.87%)
FCCL 52.48 Decreased By ▼ -0.61 (-1.15%)
FFL 16.43 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
GGL 25.40 Increased By ▲ 0.56 (2.25%)
HBL 300.00 Increased By ▲ 0.18 (0.06%)
HUBC 216.50 Decreased By ▼ -0.58 (-0.27%)
HUMNL 10.45 Decreased By ▼ -0.16 (-1.51%)
KEL 7.15 Decreased By ▼ -0.07 (-0.97%)
LOTCHEM 29.30 Decreased By ▼ -0.01 (-0.03%)
MLCF 90.09 Decreased By ▼ -2.07 (-2.25%)
OGDC 316.00 Decreased By ▼ -0.29 (-0.09%)
PAEL 41.45 Decreased By ▼ -0.59 (-1.4%)
PIBTL 16.33 Decreased By ▼ -0.08 (-0.49%)
PIOC 289.00 Decreased By ▼ -11.24 (-3.74%)
PPL 215.59 Decreased By ▼ -1.25 (-0.58%)
PRL 51.64 Increased By ▲ 0.78 (1.53%)
SNGP 100.19 Decreased By ▼ -1.53 (-1.5%)
SSGC 26.00 Decreased By ▼ -0.98 (-3.63%)
TELE 8.40 Decreased By ▼ -0.25 (-2.89%)
TPLP 13.15 Decreased By ▼ -0.24 (-1.79%)
TRG 58.60 Decreased By ▼ -0.66 (-1.11%)
UNITY 10.07 Decreased By ▼ -0.23 (-2.23%)
WTL 1.22 Decreased By ▼ -0.01 (-0.81%)
پاکستان

عالمی سطح پر غیر یقینی صورتحال، وزیراعظم کا ہنگامی معاشی لائحہ عمل تیار کرنے کا حکم

  • اجلاس کے دوران حالیہ عالمی کشیدگی اور خطے پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں بریفنگ
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کو ایک اجلاس کی صدارت کی جس میں موجودہ عالمی تناظر میں ملک کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق اجلاس کے دوران حالیہ عالمی کشیدگی اور خطے پر اس کے معاشی اثرات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ موجودہ عالمی معاشی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر معاشی ترقی، کفایت شعاری اور بچت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک لائحہ عمل مرتب کرے۔

یہ کمیٹی گزشتہ ہفتے مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ کمیٹی پہلے ہی ایک لائحہ عمل پر کام کر رہی ہے، جس کے بارے میں اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اس کی بدولت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی کسی بھی ممکنہ قلت کو روکنے اور دستیابی کو یقینی بنانے میں مدد ملی۔

اعلامیے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا حالیہ فیصلہ اسی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ عالمی منڈی میں پیٹرول، آئل اور لیوبریکنٹس کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا صرف کم سے کم بوجھ ہی صارفین تک منتقل کیا گیا ہے۔

حکومتِ پاکستان نے جمعہ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافے کا اعلان کیا، یہ فیصلہ عالمی منڈی میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے عین مطابق ہے۔

اس اضافے کے بعد پٹرول کی قیمت بڑھ کر 321.17 روپے فی لٹر ہوگئی جبکہ ڈیزل کی قیمت 335.86 روپے فی لٹر تک پہنچ گئی ہے۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے تیل اور ایندھن کی برآمدات محدود ہو رہی ہیں، جس کے نتیجے میں توانائی کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔

اسی دوران، وزیراعظم نے کمیٹی کو مزید فعال طریقے سے کام کرنے اور آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ جو بھی پیٹرول پمپ یا کمپنی مصنوعی قلت پیدا کرنے یا ذخیرہ اندوزی میں ملوث پائی جائے اسے فوری طور پر بند کر کے اس کا لائسنس منسوخ کر دیا جائے، جبکہ اس کے خلاف قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے۔

Comments

200 حروف