ترکیہ نے پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کردیا
- پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ توثیق کے مرحلے میں داخل، مشترکہ محاذ کی تشکیل کی جانب پیش رفت
ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے، جس سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ریاض کے ساتھ باضابطہ باہمی دفاعی عہد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پارلیمانی ذرائع نے منگل کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔
تینوں ممالک نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے پر دستخط کے موقع پر جاری مشترکہ بیان میں ہر ملک کی ذمہ داریوں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔
رواں ماہ ریاض میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی ’’تیز رفتار تعیناتی‘‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔
مضبوط دفاعی صنعت کے حامل ترکیہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور ریاض کی دفاعی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ ترکیہ بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی رضامند ہوا ہے۔
ترکیہ میں معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے پارلیمانی توثیق ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرتلمش کرغزستان کے دورے سے واپسی پر معاہدہ خارجہ امور کی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ کمیٹی میں اس پر جمعے کو بھی بحث ہوسکتی ہے۔ معاہدے کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیے جانے کے بعد منظرعام پر آنے کی توقع ہے۔
ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتحاد میں ترکیہ کا کردار فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اب تک اتحاد کے تحت کسی دوسری نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں ہوئی۔
ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے وہاں فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔
























Comments