BR100 Decreased By (-0.56%)
BR30 Decreased By (-0.63%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.74%)
BAFL 55.56 Decreased By ▼ -0.32 (-0.57%)
BIPL 24.41 Decreased By ▼ -0.07 (-0.29%)
BOP 28.15 Decreased By ▼ -0.38 (-1.33%)
CNERGY 12.41 Decreased By ▼ -0.47 (-3.65%)
DFML 15.73 Decreased By ▼ -0.05 (-0.32%)
DGKC 179.63 Increased By ▲ 0.60 (0.34%)
FABL 91.03 Decreased By ▼ -0.14 (-0.15%)
FCCL 51.66 Increased By ▲ 0.36 (0.7%)
FFL 13.90 Decreased By ▼ -0.16 (-1.14%)
GGL 19.34 Decreased By ▼ -0.15 (-0.77%)
HBL 286.55 Decreased By ▼ -3.22 (-1.11%)
HUBC 191.31 Decreased By ▼ -1.53 (-0.79%)
HUMNL 8.69 Decreased By ▼ -0.46 (-5.03%)
KEL 5.72 Decreased By ▼ -0.29 (-4.83%)
LOTCHEM 24.25 Decreased By ▼ -0.70 (-2.81%)
MLCF 89.64 Increased By ▲ 0.41 (0.46%)
OGDC 300.01 Increased By ▲ 0.54 (0.18%)
PAEL 33.01 Decreased By ▼ -0.61 (-1.81%)
PIBTL 13.19 Decreased By ▼ -0.29 (-2.15%)
PIOC 231.29 Increased By ▲ 1.16 (0.5%)
PPL 214.32 Decreased By ▼ -4.53 (-2.07%)
PRL 101.44 Decreased By ▼ -7.37 (-6.77%)
SNGP 92.43 Increased By ▲ 2.71 (3.02%)
SSGC 23.15 Increased By ▲ 0.38 (1.67%)
TELE 6.98 Decreased By ▼ -0.06 (-0.85%)
TPLP 11.69 Increased By ▲ 0.16 (1.39%)
TRG 57.13 Decreased By ▼ -0.49 (-0.85%)
UNITY 7.90 Decreased By ▼ -0.21 (-2.59%)
WTL 0.93 Decreased By ▼ -0.02 (-2.11%)
دنیا

ترکیہ نے پاکستان، سعودی عرب دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کردیا

  • پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان نیا دفاعی معاہدہ توثیق کے مرحلے میں داخل، مشترکہ محاذ کی تشکیل کی جانب پیش رفت
شائع اپ ڈیٹ

ترکیہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کردیا ہے، جس سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج حوثیوں کے حملوں کے تناظر میں ریاض کے ساتھ باضابطہ باہمی دفاعی عہد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ پارلیمانی ذرائع نے منگل کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔

تینوں ممالک نے اگست میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ تاہم معاہدے پر دستخط کے موقع پر جاری مشترکہ بیان میں ہر ملک کی ذمہ داریوں کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔

رواں ماہ ریاض میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی ’’تیز رفتار تعیناتی‘‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

مضبوط دفاعی صنعت کے حامل ترکیہ نے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کی ہے اور ریاض کی دفاعی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش بھی کی ہے۔ ترکیہ بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی رضامند ہوا ہے۔

ترکیہ میں معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے پارلیمانی توثیق ضروری ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمنٹ کے اسپیکر نعمان قرتلمش کرغزستان کے دورے سے واپسی پر معاہدہ خارجہ امور کی کمیٹی کو بھیجیں گے۔ کمیٹی میں اس پر جمعے کو بھی بحث ہوسکتی ہے۔ معاہدے کی تفصیلات کمیٹی میں پیش کیے جانے کے بعد منظرعام پر آنے کی توقع ہے۔

ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اتحاد میں ترکیہ کا کردار فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور ہتھیاروں کے نظام تک محدود رہنے کا امکان ہے۔ ان کے مطابق اب تک اتحاد کے تحت کسی دوسری نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں ہوئی۔

ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدہ جارحانہ نوعیت کا نہیں ہے اور ترکیہ کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے وہاں فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔

Comments

200 حروف