“ٹیکسٹائل برآمدات کو خطرہ، حکومت امریکہ سے خصوصی تجارتی رعایتیں حاصل کرے، اپٹما
ملک کی بڑی صنعتی تنظیموں میں سے ایک آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے بدھ کو حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کی ٹیکسٹائل برآمدات کے لئے ترجیحی مارکیٹ رسائی حاصل کرنے کی خاطر فوری امریکا کے ساتھ بات چیت کا آغاز کرے۔
اپٹما نے وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال خان کو لکھے گئے خط میں کہا کہ ہم یہ مراسلہ حالیہ تجارتی پیشرفت کے تناظر میں لکھ رہے ہیں جو پاکستان کی برآمدی مسابقت کو بڑے پیمانے پر متاثر کرتی ہیں۔
ایسوسی ایشن نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ بڑے حریف ممالک نے نئے تجارتی معاہدوں کے ذریعے امریکہ تک بہتر مارکیٹ رسائی حاصل کرلی ہے۔
اپٹما نے مزید کہا کہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ 18 فیصد ٹیرف (ڈیوٹی) کے لیے معاملات طے کرلیے ہیں جب کہ پاکستان کو تقریباً 19 فیصد کا سامنا ہے، اس کے علاوہ یورپی یونین اور بھارت نے آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) بھی مکمل کرلیا ہے۔
اپٹما نے مزید کہا کہ حال ہی میں بنگلہ دیش نے امریکی کاٹن سے تیار کردہ ملبوسات اور کپڑے کیلئے امریکی مارکیٹ میں زیرو ٹیرف رسائی حاصل کرلی ہے۔
اپٹما کا یہ موقف تھا کہ یہ پیش رفت ملکی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات کے لیے سنگین اور فوری خطرہ پیدا کرتی ہے۔
ایسوسی ایشن کا کہنا تھا کہ ملک کا ٹیکسٹائل سیکٹر توانائی اور خام مال کی بلند قیمتوں، خطے میں سب سے زیادہ شرحِ سود، ٹیکسز اور مجموعی طور پر مشکل کاروباری ماحول کی وجہ سے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
اپٹما کا کہنا ہے کہ حریف ممالک کے لیے مارکیٹ تک بہتر رسائی اور ان کی کم پیداواری لاگت کے باعث ہماری سب سے بڑی مارکیٹ (امریکہ) میں پاکستان کے برآمدی حصے کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔
ایسوسی ایشن نے تجویز دی کہ وزارتِ تجارت امریکی کاٹن سے تیار شدہ مصنوعات کے لیے پاکستان کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات پر ٹیرف میں رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرے، جس کے بدلے امریکی کاٹن کی درآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔
ایسوسی ایشن نے وزارتِ تجارت کو تجویز دی ہے کہ وہ امریکی کاٹن سے بنی پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی برآمدات پر رعایت حاصل کرنے کے لیے امریکہ سے رابطہ کرے جس کے بدلے میں امریکہ سے کاٹن کی درآمدات میں اضافہ کیا جائے گا۔
ایسوسی ایشن نے کہا کہ ہم نے رعایتی مارکیٹ رسائی کی تجویز کے ساتھ امریکی سفارت خانے سے بھی رابطہ کیا ہے۔
تیزی سے بدلتے ہوئے مسابقتی ماحول کے پیشِ نظر، ہم احترام کے ساتھ گزارش کرتے ہیں کہ حکومتِ پاکستان امریکی حکام سے رابطہ کرے تاکہ امریکی کپاس سے تیار کردہ پاکستانی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی مصنوعات کے لیے ڈیوٹی فری رسائی حاصل کی جا سکے۔

























Comments