مقصد صرف بنگلہ دیش کو عزت دلانا تھا، چیئرمین پی سی بی
- مذاکرات میں پاکستان کا کوئی ذاتی یا ادارہ جاتی مفاد نہیں تھا، محسن نقوی
پی سی بی کے چیئرمین محسن نقوی نے منگل کے روز کہا ہے کہ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ (بی سی بی) اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے حکام کے ساتھ ان کی حالیہ ملاقاتیں صرف اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تھیں کہ بنگلہ دیش کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے، انہوں نے کسی اور شرط پر بات کرنے سے متعلق رپورٹس کو مسترد کیا ہے۔
انہوں نے یہ بات پشاور میں میڈیا سے گفتگو کے دوران کہی۔
آئی سی سی اور بی سی بی کے حکام کے ساتھ ملاقاتوں کے بارے میں سوالات کے جواب میں نقوی نے کہا کہ پاکستان کا مذاکرات میں بنگلہ دیش کے ساتھ ہونے والے ناانصافی کو اجاگر کرنے کے علاوہ کوئی ذاتی یا ادارہ جاتی مفاد نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ” ہم نے بنگلہ دیش کے علاوہ کسی اور چیز پر بات نہیں کی۔ ہمارا واحد مقصد انہیں عزت دلانا اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کی نشاندہی کرنا تھا۔“ انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کے دوران بنگلہ دیش کے تمام مطالبات مان لئے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ”اور آپ نے دیکھا کہ بنگلہ دیش کے جو بھی مطالبات تھے، وہ مان لئے گئے۔ بس یہی بات ہے۔“
محسن نقوی کا یہ بیان اس پیشرفت کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب وفاقی حکومت نے ٹوئنٹی20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے گروپ مرحلے کے میچ کے بائیکاٹ کے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا، جو 15 فروری کو بھارت کے خلاف شیڈول ہے۔
حکومت کا ابتدائی فیصلہ بھارت کے خلاف اس ہائی پروفائل میچ کے بائیکاٹ کا یکم فروری کو اعلان کیا گیا تھا، اس کے بعد کہ ڈھاکہ نے بھارت کا دورہ کرنے سے انکار کر دیا تھا اور اس کے بجائے اس کا ٹورنامنٹ میں اسکاٹ لینڈ نے متبادل طور پر حصہ لیا، جس کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ سیاسی تعلقات کے دوران سیکیورٹی خدشات بتائے گئے تھے۔
یہ تنازع طویل مذاکرات کے بعد حل ہوا، جس میں آئی سی سی، پاکستان اور بنگلہ دیش کے کرکٹ بورڈز، حکومتی سطح پر مشاورت اور دوست ممالک بشمول سری لنکا اور متحدہ عرب امارات کی سفارتی شمولیت شامل تھی۔
محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان نے میچ کھیلنے پر تب ہی اتفاق کیا جب بنگلہ دیش کے خدشات دور کیے گئے اور آئی سی سی نے تسلیم کیا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ”حکومت نے اسی بنیاد پر فیصلہ کیا۔ جب ان کے مطالبات مان لیے گئے اور تسلیم کیا گیا کہ ناانصافی ہوئی ہے، تو ہم نے میچ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔“





















Comments