جنگ کے بڑھتے خدشات کے درمیان ایران اور امریکہ عمان میں آج مذاکرات کریں گے
- دونوں فریقین نے تہران کے طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے
ایران اور امریکہ جمعے کو عمان میں ایران کے جوہری پروگرام پر اعلیٰ سطحی مذاکرات کرنے والے ہیں، تاہم مذاکرات کے ایجنڈے، خاص طور پر ایران کے طاقتور میزائل پروگرام پر اختلافات کی وجہ سے پیش رفت مشکل نظر آ رہی ہے اور مشرق وسطیٰ میں دوبارہ جنگ کے خطرات باقی ہیں۔
دونوں فریقین نے تہران کے طویل عرصے سے جاری جوہری تنازع پر سفارت کاری بحال کرنے کی تیاری ظاہر کی ہے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کو کہا کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل، علاقائی مسلح گروپوں کی حمایت اور ایرانی عوام کے ساتھ سلوک کو بھی زیر بحث لایا جائے۔
ایران نے کہا ہے کہ وہ عمان میں صرف جوہری امور پر بات کرنا چاہتا ہے اور مذاکرات میں میزائل پروگرام کو زیر بحث لانے سے گریز کرے گا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پرامید اور ماضی کے تجربات سے سبق سیکھتے ہوئے مذاکرات میں شامل ہوگا اور حقوق کے تحفظ پر قائم رہے گا۔
جون میں امریکہ نے ایرانی جوہری اہداف پر حملہ کیا، جو اسرائیل کے 12 روزہ بمباری مہم کے آخری مراحل کا حصہ تھا۔ تہران نے بعد ازاں کہا کہ یورینیم افزودگی کا کام روک دیا گیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں اور امریکی بحریہ کی تعیناتی کے سبب ایران میں حکومت کی مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا کہ صدر کے پاس سفارت کاری کے علاوہ بھی کئی اختیارات موجود ہیں اور کسی بھی صورت میں ایران پر دباؤ برقرار رہے گا۔
ایران نے کسی بھی فوجی حملے کے سخت جواب کی دھمکی دی ہے اور پڑوسی ممالک کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ حملے میں شامل ہوئے تو خطرے میں رہیں گے۔
مذاکرات سے پہلے، ایران نے کہا کہ وہ یورینیم افزودگی میں لچک دکھانے کے لیے 400 کلو گرام اعلیٰ افزودہ یورینیم دینے اور کنسورشیم کے تحت زیرو افزودگی کو حل کے طور پر قبول کرنے پر تیار ہے، تاہم افزودگی کا ناقابل مذاکرات ہے۔ ایران کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہیں جبکہ امریکہ اور اسرائیل پرانی کوششوں میں اس پر جوہری ہتھیار بنانے کا الزام عائد کرتے ہیں۔

























Comments