بنگلادیش نے اڈانی پاور کا معاہدہ مہنگا قرار دیدیا، قانونی بے ضابطگیوں کی نشاندہی
- کوئلے سے چلنے والا پلانٹ بجلی کی برآمدات کے دوران بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کر رہا ہے، کمیٹی کی رپورٹ
بنگلادیش میں جاری سرکاری رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنی اڈانی پاور کا کوئلے سے چلنے والا پلانٹ بجلی کی برآمدات کے دوران بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کر رہا ہے اور مارکیٹ ریٹس سے زیادہ قیمت وصول کر رہا ہے۔
قومی جائزہ کمیٹی (این آر سی) کی 20 جنوری کی رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ میں اڈانی پاور کا گوڈا پلانٹ نجی شعبے کے قریبی حریف کے مقابلے میں 39.7 فیصد زیادہ قیمت پر بجلی فراہم کر رہا ہے اور بھارت سے بجلی درآمد کے تمام معاہدوں میں سب سے زیادہ لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ قیمت میں یہ فرق مخصوص معاہداتی انتخاب کا نتیجہ ہے اور معاہدے کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے شواہد ملے ہیں۔اس حوالے سے اڈانی پاور کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے کمپنی سے بات نہیں کی اور نہ ہی رپورٹ فراہم کی گئی، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔
کمپنی نے مزید کہا کہ بڑے بقایاجات کے باوجود بجلی کی فراہمی جاری رکھی گئی ہے، جبکہ دیگر جنریٹرز نے اپنی فراہمی کم یا بند کر دی تھی۔ کمپنی نے حکومت بنگلادیش سے اپیل کی کہ بقایاجات جلد ادا کیے جائیں کیونکہ یہ آپریشنز پر اثر ڈال رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ اڈانی پلانٹ بنگلادیش کی مجموعی بجلی کی طلب کا 10 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے اور اس نے مہنگے کوئلے کا استعمال کیا اور بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بھی بنگلادیش کو چارج کیا۔ این آر سی کے مطابق ادا کی جانے والی قیمت تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے اور یہ بنگلادیش کے کراس بارڈر بجلی کے معاہدوں میں سب سے نمایاں غیر معمولی معاملہ ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی معیاری عمل کے مطابق آزاد پاور پلانٹس کو اپنے ہوم جرنڈکشن میں ٹیکس خود برداشت کرنا چاہیے، جبکہ اڈانی پاور کا معاہدہ اس سے ہٹ کر بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کرتا ہے۔
























Comments