BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

بنگلادیش نے اڈانی پاور کا معاہدہ مہنگا قرار دیدیا، قانونی بے ضابطگیوں کی نشاندہی

  • کوئلے سے چلنے والا پلانٹ بجلی کی برآمدات کے دوران بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کر رہا ہے، کمیٹی کی رپورٹ
شائع اپ ڈیٹ

بنگلادیش میں جاری سرکاری رپورٹ کے مطابق بھارتی کمپنی اڈانی پاور کا کوئلے سے چلنے والا پلانٹ بجلی کی برآمدات کے دوران بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کر رہا ہے اور مارکیٹ ریٹس سے زیادہ قیمت وصول کر رہا ہے۔

قومی جائزہ کمیٹی (این آر سی) کی 20 جنوری کی رپورٹ کے مطابق جھارکھنڈ میں اڈانی پاور کا گوڈا پلانٹ نجی شعبے کے قریبی حریف کے مقابلے میں 39.7 فیصد زیادہ قیمت پر بجلی فراہم کر رہا ہے اور بھارت سے بجلی درآمد کے تمام معاہدوں میں سب سے زیادہ لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ قیمت میں یہ فرق مخصوص معاہداتی انتخاب کا نتیجہ ہے اور معاہدے کے عمل میں سنگین بے ضابطگیوں کے شواہد ملے ہیں۔اس حوالے سے اڈانی پاور کا کہنا تھا کہ کمیٹی نے کمپنی سے بات نہیں کی اور نہ ہی رپورٹ فراہم کی گئی، اس لیے اس پر تبصرہ نہیں کیا جا سکتا۔

کمپنی نے مزید کہا کہ بڑے بقایاجات کے باوجود بجلی کی فراہمی جاری رکھی گئی ہے، جبکہ دیگر جنریٹرز نے اپنی فراہمی کم یا بند کر دی تھی۔ کمپنی نے حکومت بنگلادیش سے اپیل کی کہ بقایاجات جلد ادا کیے جائیں کیونکہ یہ آپریشنز پر اثر ڈال رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اڈانی پلانٹ بنگلادیش کی مجموعی بجلی کی طلب کا 10 فیصد سے زیادہ فراہم کرتا ہے اور اس نے مہنگے کوئلے کا استعمال کیا اور بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بھی بنگلادیش کو چارج کیا۔ این آر سی کے مطابق ادا کی جانے والی قیمت تقریباً 50 فیصد زیادہ ہے اور یہ بنگلادیش کے کراس بارڈر بجلی کے معاہدوں میں سب سے نمایاں غیر معمولی معاملہ ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بین الاقوامی معیاری عمل کے مطابق آزاد پاور پلانٹس کو اپنے ہوم جرنڈکشن میں ٹیکس خود برداشت کرنا چاہیے، جبکہ اڈانی پاور کا معاہدہ اس سے ہٹ کر بھارتی کارپوریٹ ٹیکس بنگلادیش پر منتقل کرتا ہے۔

Comments

Comments are closed.