گرین لینڈ کے ڈنمارک کے ساتھ رہنے کا معاملہ ٹرمپ کے ساتھ زیرِ بحث نہیں آیا، نیٹو سربراہ
- امریکی صدر نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹیرف کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے ہیں
نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُوٹے نے بدھ کو کہا کہ گرین لینڈ کے ڈنمارک کے ساتھ رہنے کے مسئلے پر ان کی ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں کوئی بات نہیں ہوئی، کیونکہ امریکی صدر نے گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹیرف کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹ گئے اور فوجی طاقت کے استعمال کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
مارک روٹے نے یہ تبصرہ فوکس نیوز کے پروگرام اسپیشل رپورٹ ود بریٹ بائر میں دیا۔
اسی دن ٹرمپ نے اچانک ٹیرف کی دھمکیوں سے پیچھے ہٹنے کا اعلان کیا، جس کا مقصد گرین لینڈ کو کنٹرول میں لینے کے لیے دباؤ ڈالنا تھا، اور انہوں نے طاقت کے استعمال کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایک معاہدہ جلد ممکن ہے جو ڈنمارک کے اس خطے کے تنازعے کو ختم کرے گا۔
مارک روٹے سے ملاقات کے بعد ٹرمپ نے کہا کہ مغربی آرکٹک اتحادی گرین لینڈ پر ایک نیا معاہدہ کر سکتے ہیں، جس سے ان کی خواہش کے مطابق گولڈن ڈوم میزائل دفاعی نظام قائم کرنے اور قیمتی معدنیات تک رسائی حاصل کرنے کے ساتھ روس اور چین کی آرکٹک میں دلچسپی کو روکا جا سکے گا۔
ٹرمپ نے پہلے کئی بار کہا تھا کہ واشنگٹن کو گرین لینڈ کا مالک ہونا چاہیے، جو ڈنمارک کی سلطنت کا خودمختار حصہ ہے اور یہاں ایک امریکی فضائی اڈہ موجود ہے، تاکہ روس یا چین اس اسٹریٹجک اور معدنیات سے بھرپور آرکٹک علاقے پر قبضہ نہ کر سکیں۔
گرین لینڈ میں تقریباً 57,000 افراد مقیم ہیں اور اس کا اسٹریٹجک محل وقوع شمالی قطب کے خطے میں اہمیت رکھتا ہے۔ امریکی صدر کی اس پالیسی تبدیلی سے عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل توازن میں اہم تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔
ٹرمپ کے فیصلے سے سرمایہ کار اور سیاسی تجزیہ کار اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا اس خطے میں روس اور چین کی سرگرمیوں پر اثر پڑے گا یا مغربی ممالک کے درمیان تعاون مضبوط ہوگا۔
یہ پیش رفت امریکی خارجہ پالیسی میں گرین لینڈ کو لے کر پچھلے برسوں کی کشیدگی کے بعد ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
























Comments