غیر دستاویزی معیشت معاشی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار
- پاکستان ابھی بھی اپنے بلند ٹیکس اہداف حاصل کر سکتا ہے اگر حکومت غیر قانونی تجارت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
پاکستان ابھی بھی اپنے بلند ٹیکس اہداف حاصل کر سکتا ہے اگر حکومت غیر قانونی تجارت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔ ذرائع نے بتایا کہ موجودہ مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اپنے اصل ہدف کے مقابلے میں 545 ارب روپے کی نمایاں کمی کا سامنا کرنا پڑا، جو معیشت میں بڑے پیمانے پر ریونیو کے اخراج کو ظاہر کرتا ہے۔
ایپسوس کی پانچ شعبوں میں ٹیکس چوری سے متعلق ایک تحقیق کے مطابق ہر سال ایک ٹریلین روپے سے زائد ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کے باعث ضائع ہو جاتے ہیں۔ نفاذ اور دستاویزی نظام پر حکمت عملی کے ساتھ توجہ دینے سے حکومت کو اضافی مالی گنجائش مل سکتی ہے اور معیشت کو مستحکم رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، بغیر اس کے کہ پہلے سے ٹیکس دینے والے طبقے اور دستاویزی کاروبار پر مزید بوجھ ڈالا جائے۔
غیر دستاویزی معیشت معاشی بحالی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر ہی سالانہ تقریباً 500 ارب روپے کے ٹیکس نقصان کا سبب بنتا ہے، جبکہ اسمگل شدہ اور نان ٹیکس شدہ سگریٹوں پر مشتمل غیر قانونی تمباکو تجارت قومی خزانے کو مزید 310 ارب روپے کا نقصان پہنچاتی ہے۔ دیگر بڑے شعبے، جن میں ٹائر، لبریکنٹس، ادویات اور چائے شامل ہیں، مزید 200 ارب روپے سے زائد کی چوری کے ذمہ دار ہیں۔
میکرو اکنامک تجزیہ کار اسامہ صدیقی کا کہنا ہے کہ چونکہ یہ شعبے زیادہ تر دستاویزی نیٹ سے باہر ہیں، اس لیے مالی دباؤ غیر منصفانہ طور پر محدود ٹیکس دہندگان پر منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا دائروی عمل پیدا کرتا ہے جس میں زیادہ ٹیکس شرح مزید چوری کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور کاروباری ترقی کو روکتی ہے۔
اسامہ صدیقی کا کہنا ہے کہ حل بلند ٹیکس شرحوں میں نہیں بلکہ مخصوص نفاذ میں ہے۔ ٹیکس اہداف حاصل کرنے کے لیے حکومت کو ان گیپس کو بند کرنا ہوگا جہاں سے ریونیو ضائع ہوتا ہے اور ہدف بنا کر کارروائی کو تیز کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر انحصار کرنے کے بجائے غیر دستاویزی شعبے کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور اسمگلنگ کے خاتمے پر توجہ دینی چاہیے۔ مختلف صنعتوں میں ٹریک اینڈ ٹریس نظام کا غیر موثر نفاذ اس حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے کہ غیر قانونی تجارت کی روک تھام میں حکومتی سنجیدگی کا فقدان ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پائیدار مالی استحکام کا راستہ اس حکمت عملی کی تبدیلی میں ہے جس میں پہلے سے ٹیکس دینے والوں کو مزید دبانے کے بجائے ٹیکس نظام سے باہر رہنے والوں کو شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس اہداف کو ہنگامی اقدامات کے بجائے معاشی نمو اور منصفانہ ٹیکس وصولی کے ذریعے حاصل کرنے کے لیے ریگولیٹری نفاذ کو مضبوط اور غیر قانونی تجارتی نیٹ ورکس کا خاتمہ ضروری ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments