BR100 Increased By (0.83%)
BR30 Increased By (0.59%)
KSE100 Increased By (0.75%)
KSE30 Increased By (0.8%)
BAFL 57.44 Increased By ▲ 0.24 (0.42%)
BIPL 27.26 Increased By ▲ 0.37 (1.38%)
BOP 34.28 Increased By ▲ 0.59 (1.75%)
CNERGY 10.81 Increased By ▲ 0.20 (1.89%)
DFML 18.21 Increased By ▲ 0.16 (0.89%)
DGKC 210.79 Increased By ▲ 0.89 (0.42%)
FABL 100.90 Increased By ▲ 1.95 (1.97%)
FCCL 54.91 Increased By ▲ 1.17 (2.18%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 25.40 Increased By ▲ 1.58 (6.63%)
HBL 303.89 Increased By ▲ 1.47 (0.49%)
HUBC 220.61 Increased By ▲ 1.67 (0.76%)
HUMNL 10.57 Increased By ▲ 0.03 (0.28%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.78 Increased By ▲ 0.13 (0.44%)
MLCF 95.99 Decreased By ▼ -0.37 (-0.38%)
OGDC 318.50 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 43.08 Increased By ▲ 1.31 (3.14%)
PIBTL 16.90 Increased By ▲ 0.09 (0.54%)
PIOC 299.00 Increased By ▲ 2.38 (0.8%)
PPL 221.09 Increased By ▲ 0.92 (0.42%)
PRL 51.49 Increased By ▲ 2.44 (4.97%)
SNGP 106.50 Increased By ▲ 0.37 (0.35%)
SSGC 28.55 Decreased By ▼ -0.59 (-2.02%)
TELE 8.87 Increased By ▲ 0.05 (0.57%)
TPLP 12.92 Increased By ▲ 0.41 (3.28%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -0.22 (-0.37%)
UNITY 10.72 Increased By ▲ 0.70 (6.99%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
کاروبار اور معیشت

کراچی چیمبر کی پاور سیکٹر سے متعلق دو قوانین میں ترمیم کی مخالفت

  • مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں، محمد رضا
شائع اپ ڈیٹ

قائم مقام صدر کراچی چیمبر محمد رضا نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرک پاور ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تشویش اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو پاور ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں دیا جا سکتا ہے۔

ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے محمد رضا نے کہا کہ یہ مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں جویوٹیلیٹی ریگولیشن میں شفافیت، پیش گوئی کے قابل فیصلوں اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نیپرا کو کسی انتظامی وزارت کے براہِ راست اثر و رسوخ میں دینے سے اس کی غیر جانبدارانہ، تکنیکی طور پر مضبوط اور لاگت کے حقیقی عکاس فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے پاور سیکٹر کے گورننس فریم ورک پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔

محمد رضا نے نشاندہی کی کہ آزاد ریگولیٹرز کا قیام اسی لیے عمل میں لایا جاتا ہے کہ وہ حکومت، یوٹیلیٹیز، سرمایہ کاروں اور صارفین کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں۔ کوئی بھی ایسا اقدام جو نیپرا کو پاور ڈویژن کا ماتحت ادارہ بنا دے، نہ صرف اس کے اختیارات کو کمزور کرے گا بلکہ ٹیرف کے تعین اور دیگر ریگولیٹری فیصلوں میں سیاست کے اثر و رسوخ کے بارے میں سنگین خدشات کو بھی جنم دے گاحالانکہ ایسے فیصلوں کو قلیل مدتی انتظامی یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنا چاہیے۔

قائم مقام صدر کے سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی ترامیم ایسے وقت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جب پاکستان کو پاور سیکٹر میں دائمی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اورکپیسٹی پیمنٹس کےمسائل سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری استحکام اور خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انتظامی مداخلت کا کوئی بھی تاثر نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور جاری و آئندہ منصوبوں کے لیے سرمایہ کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

Comments are closed.