BR100 Increased By (0.54%)
BR30 Increased By (0.56%)
KSE100 Increased By (0.33%)
KSE30 Increased By (0.24%)
BAFL 58.57 Increased By ▲ 0.12 (0.21%)
BIPL 25.50 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
BOP 34.20 Decreased By ▼ -0.05 (-0.15%)
CNERGY 8.24 Increased By ▲ 0.08 (0.98%)
DFML 20.98 Increased By ▲ 0.02 (0.1%)
DGKC 199.71 Increased By ▲ 2.24 (1.13%)
FABL 89.88 Increased By ▲ 0.37 (0.41%)
FCCL 54.25 Increased By ▲ 0.36 (0.67%)
FFL 18.11 Increased By ▲ 0.08 (0.44%)
GGL 20.65 Increased By ▲ 0.85 (4.29%)
HBL 286.51 Increased By ▲ 0.45 (0.16%)
HUBC 216.90 Increased By ▲ 1.50 (0.7%)
HUMNL 11.22 Increased By ▲ 0.22 (2%)
KEL 8.15 Increased By ▲ 0.04 (0.49%)
LOTCHEM 28.51 Increased By ▲ 1.07 (3.9%)
MLCF 89.00 Increased By ▲ 0.95 (1.08%)
OGDC 324.76 Increased By ▲ 0.20 (0.06%)
PAEL 40.42 Increased By ▲ 0.48 (1.2%)
PIBTL 17.44 Increased By ▲ 0.12 (0.69%)
PIOC 279.01 Increased By ▲ 3.55 (1.29%)
PPL 233.61 Increased By ▲ 0.83 (0.36%)
PRL 34.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.14%)
SNGP 99.67 Increased By ▲ 0.06 (0.06%)
SSGC 27.10 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
TELE 8.58 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
TPLP 9.05 Increased By ▲ 0.29 (3.31%)
TRG 73.10 Increased By ▲ 1.35 (1.88%)
UNITY 11.60 Decreased By ▼ -0.07 (-0.6%)
WTL 1.27 Increased By ▲ 0.01 (0.79%)
کاروبار اور معیشت

کراچی چیمبر کی پاور سیکٹر سے متعلق دو قوانین میں ترمیم کی مخالفت

  • مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں، محمد رضا
شائع January 16, 2026 اپ ڈیٹ January 16, 2026 12:01pm

قائم مقام صدر کراچی چیمبر محمد رضا نے نیپرا ایکٹ 1997 اور الیکٹرک پاور ایکٹ 1910 میں مجوزہ ترامیم پر شدید تشویش اور سخت مخالفت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی کو پاور ڈویژن کے انتظامی کنٹرول میں دیا جا سکتا ہے۔

ایک خبر کا حوالہ دیتے ہوئے محمد رضا نے کہا کہ یہ مجوزہ ترامیم ریگولیٹری خودمختاری کی بنیاد پر ہی ضرب لگانےکےمترادف ہیں جویوٹیلیٹی ریگولیشن میں شفافیت، پیش گوئی کے قابل فیصلوں اور ساکھ کو یقینی بنانے کے لیے ایک عالمی طور پر تسلیم شدہ اصول ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نیپرا کو کسی انتظامی وزارت کے براہِ راست اثر و رسوخ میں دینے سے اس کی غیر جانبدارانہ، تکنیکی طور پر مضبوط اور لاگت کے حقیقی عکاس فیصلے کرنے کی صلاحیت متاثر ہوگی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے پاور سیکٹر کے گورننس فریم ورک پر اعتماد کمزور پڑ جائے گا۔

محمد رضا نے نشاندہی کی کہ آزاد ریگولیٹرز کا قیام اسی لیے عمل میں لایا جاتا ہے کہ وہ حکومت، یوٹیلیٹیز، سرمایہ کاروں اور صارفین کے درمیان ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کریں۔ کوئی بھی ایسا اقدام جو نیپرا کو پاور ڈویژن کا ماتحت ادارہ بنا دے، نہ صرف اس کے اختیارات کو کمزور کرے گا بلکہ ٹیرف کے تعین اور دیگر ریگولیٹری فیصلوں میں سیاست کے اثر و رسوخ کے بارے میں سنگین خدشات کو بھی جنم دے گاحالانکہ ایسے فیصلوں کو قلیل مدتی انتظامی یا سیاسی دباؤ سے محفوظ رہنا چاہیے۔

قائم مقام صدر کے سی سی آئی نے خبردار کیا کہ اس نوعیت کی ترامیم ایسے وقت میں سرمایہ کاروں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہیں جب پاکستان کو پاور سیکٹر میں دائمی ناکامیوں، بڑھتے ہوئے گردشی قرضے اورکپیسٹی پیمنٹس کےمسائل سے نمٹنے کے لیے نجی شعبے کی شمولیت کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ سرمایہ کاروں کے لیے ریگولیٹری استحکام اور خودمختاری بنیادی اہمیت رکھتے ہیں اور انتظامی مداخلت کا کوئی بھی تاثر نئی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کرے گا اور جاری و آئندہ منصوبوں کے لیے سرمایہ کی لاگت میں اضافہ کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف