اسپیکٹرم کی نیلامی سے ایئر ویوز دوگنا ، نیٹ ورک کے دباؤ میں کمی آئے گی
- نیلامی ٹیکنالوجی سے مشروط نہیں ہوگی، ٹیلی کام آپریٹرز 2 جی سے 6 جی تک کسی بھی ٹیکنالوجی کے لیےاسے استعمال کر سکیں گے، حکام
پاکستان کی آنے والی اسپیکٹرم نیلامی کو موبائل نیٹ ورک کے معیار کے لیے انقلابی قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حکومت فائیوجی ہینڈ سیٹس کی کمی سے متعلق خدشات کو مسترد کرتے ہوئے ڈیوائسز پر ٹیکس کم کرنے اور مقامی سطح پر فائیو جی فونز کی تیاری پر زور دے رہی ہے۔
حکومتی حکام اور صنعت کے ماہرین نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکٹرم کی نیلامی نیٹ ورک پر دباؤ کم کرنے اور موبائل سروسز کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔ یہ نیلامی ٹیکنالوجی نیوٹرل ہوگی جس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیلی کام کمپنیاں اس اسپیکٹرم کو 2 جی ، 3 جی ، 4 جی، 5 جی اور مستقبل کی 6 جی ٹیکنالوجی کے لیے استعمال کر سکیں گی۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار کمپنیوں کو مارکیٹ کی طلب کے مطابق خدمات فراہم کرنے میں لچک فراہم کرے گا۔ اس وقت پاکستان میں صرف 274 میگاہرٹز (ایم ایچ زیڈ) اسپیکٹرم استعمال ہو رہا ہے، جو خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے۔ آنے والی نیلامی میں حکومت تقریباً 600 میگاہرٹز اسپیکٹرم پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے ملک میں دستیاب ایئر ویوز کی گنجائش دوگنا سے بھی زیادہ ہو جائے گی۔
صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپیکٹرم کی کمی ہی وہ بڑی وجہ ہے جس کی وجہ سے سروس کا معیار گرا ہے، خاص طور پر گنجان آباد شہری علاقوں میں تنزلی کا شکار ہوا ہے۔ اضافی اسپیکٹرم سے کال کوالٹی اور ڈیٹا کی رفتار میں نمایاں بہتری آئے گی۔
جہاں تک فائیوجی ہینڈ سیٹس کی کمی کا تعلق ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے نیلامی کا عمل متاثر نہیں ہوگا۔ سیکریٹری خزانہ اور چیئرمین ایف بی آر کی سربراہی میں ایک کمیٹی بجٹ 27-2026 سے پہلے موبائل فونز پر ٹیکسوں کو معقول بنانے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) مقامی مینوفیکچررز کے ساتھ مل کر ملک میں فائیوجی فونز کی تیاری پر کام کر رہی ہے۔
حکام کے مطابق بڑے شہروں میں فائیوجی کے باقاعدہ آغاز میں تقریباً 6 ماہ لگ سکتے ہیں اور اس وقت تک فائیوجی فونز رکھنے والے صارفین کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہوگا۔ تجزیہ کاروں نے سری لنکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں فائیوجی اسمارٹ فونز کا تناسب صرف ایک فیصد ہونے کے باوجود نیلامی کا عمل آگے بڑھایا گیا، جو کہ ایک مستقبل پسندانہ پالیسی ہے۔
ٹیکنالوجی نیوٹرل فریم ورک کے تحت کمپنیاں نیا اسپیکٹرم فوری طور پرتھری جی اور فور جی نیٹ ورکس کو بہتر بنانے کے لیے بھی استعمال کر سکیں گی، جس کا فائدہ ان کروڑوں صارفین کو ہوگا جو ابھی فائیوجی کا انتظار نہیں کر رہے۔ حکومت کی جانب سے آنے والے ہفتوں میں قیمتوں، ٹائم لائن اور اسپیکٹرم بینڈز کے حوالے سے مزید تفصیلات کا اعلان متوقع ہے۔






















Comments