بنو اور لکی مروت میں پولیس پر دہشت گرد حملے ، 4 اہلکار شہید
- دہشت گردوں نے کفشی خیل اور لکی مروت میں نشانہ بنایا ، صدر اور وزیراعظم کا اظہارِ افسوس
خیبر پختونخوا کے اضلاع بنو اور لکی مروت میں نامعلوم دہشت گردوں کی فائرنگ کے دو الگ الگ واقعات میں ٹریفک پولیس انچارج سمیت چار پولیس اہلکار شہید ہو گئے۔
آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق بنو کے تھانہ منڈن کی حدود میں واقع علاقے کفشی خیل میں پیش آنے والے ایک واقعے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے پولیس افسر راشد خان کو نشانہ بنایا۔ پولیس افسر شدید زخمی ہوئے اور موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
دوسرا حملہ لکی مروت کے علاقے سرائے نورنگ میں ہوا۔ دہشت گردوں نے بنو لکی روڈ پر معمول کے فرائض سرانجام دینے والے ٹریفک پولیس اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ اس حملے کے نتیجے میں جلال خان (ٹریفک انچارج)، عزیز اللہ (کنسٹیبل) اور عبداللہ (کنسٹیبل) شہید ہو گئے۔
فائرنگ کے بعد حملہ آور جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ سیکیورٹی فورسز اور مقامی پولیس نے دونوں علاقوں کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی گرفتاری کے لیے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
لکی مروت پولیس نے فیس بک پر جاری ایک بیان میں کہا کہ ’فتنہ الخوارج‘ کے بزدلانہ حملے میں شہید ہونے والے پولیس افسران کی نمازِ جنازہ مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کر دی گئی ہے۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کا واقعے پر اظہار رنج و غم : الگ الگ بیانات میں صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے فائرنگ کے واقعات میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کیا ہے۔
صدر زرداری نے شہید پولیس افسران کی قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندانوں کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی۔ صدر کا کہنا تھا کہ امن و امان کے قیام کے لیے پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی خدمات اور قربانیاں قابلِ فخر ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بھی شہدا کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کے قیام میں پولیس نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ صوبائی حکومت ان ناپاک دہشت گردانہ کارروائیوں کے ذمہ دار عناصر کو کیفرِ کردار تک پہنچائے گی۔
گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے واقعے کی باضابطہ رپورٹ طلب کر لی ہے۔ گورنر نے اس بات پر زور دیا کہ صوبائی حکومت کو سیاسی ترجیحات کے بجائے امن کی بحالی اور عوامی تحفظ کو اولیت دینی چاہیے۔






















Comments